خطبات محمود (جلد 21) — Page 33
خطبات محمود 33 $1940 دانے نکلے تھے تو کیا اب ہمارا فرض نہیں کہ ہم ان بیجوں کو اتنے گنے بڑھائیں جتنے گئے وہ ایک بیج بڑھا اور پھولا اور پھلا۔پس یقینا اس جشن کے بعد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو چکی ہے کیونکہ کیا بلحاظ جانی قربانیوں کے ، کیا بلحاظ مالی قربانیوں کے ، کیا بلحاظ علمی ترقیات کے ، کیا بلحاظ تبلیغ کے ، کیا بلحاظ تعلیم و تربیت کے اور کیا بلحاظ کثرت تعداد اور زیادتِ نفوس کے ، غرض ہر رنگ میں ہم نے پہلی فصل کے کاٹنے اور دوسری فصل کے بونے کا اعلان کیا ہے مگر پہلی فصل صرف ایک بیج سے شروع ہوئی تھی اور اس دوسری فصل کی ابتد الا کھوں بیجوں سے ہوتی ہے۔اس لئے جب تک ہم یہ ارادہ نہ کر لیں کہ ان لاکھوں بیجوں کو اتنی ہی تعداد سے ضرب دیں گے جتنی تعداد سے اس ایک بیج نے ضرب کھائی تھی اُس وقت تک ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیا ہے۔مالی لحاظ سے وہ فصل خالی خزانے سے شروع ہوئی تھی اور لاکھوں تک پہنچ گئی۔مگر یہ فصل اب لاکھوں سے شروع ہوئی ہے۔اسی طرح وہ فصل ایک کلمہ سے شروع ہوئی تھی اور سینکڑوں کتابوں تک پہنچ گئی اور یہ فصل سینکڑوں کتابوں سے شروع ہوئی ہے۔پس جب تک اب لاکھوں روپیہ سے کروڑوں روپیہ اور سینکڑوں کتابوں سے ہزاروں اور لاکھوں کتا ہیں نہ بن جائیں اُس وقت تک ہمارا کام ختم نہیں ہو سکتا۔غرض اس جشن کے منانے سے ہم نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی اور نئے سرے سے اس سے حاصل شدہ بیجوں کو زمین میں ڈال دیا۔میر ا تو جسم کا ذرہ ذرہ کانپ جاتا ہے جب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کتنی اہم ذمہ داری ہے جو جماعت نے اپنے اوپر عائد کی۔اگر ہم پہلی فصل نہ کاٹتے تو ہماری ذمہ داریاں کم رہتیں مگر جب ہم نے اس فصل کو کاٹ کر الْحَمْدُ للہ کہا تو ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سامان بھی ہمیں مہیا کرنا پڑا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس جلسہ کے نتیجہ میں ہم نے لاکھوں نئے بیج زمین میں بو دیئے ہیں۔اب ہمارا فرض ہے کہ اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم جماعت میں حیرت انگیز طور پر تغیر پیدا کریں۔کیا بلحاظ آدمیوں کی تعداد کے اور کیا بلحاظ مالی قربانی کے اور کیا بلحاظ تبلیغ کے اور کیا بلحاظ تربیت کے اور کیا بلحاظ تعلیم کے۔آج سے مثلاً پچیس یا پچاس سال کے بعد اگر ہم نئی فصل کے ویسے ہی شاندار نتائج