خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 32

1940 32 خطبات محمود کھولا تھا اور اپنے دل کو میر ا گھر بنایا تھا اسی طرح آج میں تجھ کو اپنے گھر میں بلاتا ہوں آ اور ا میرے پاس بیٹھ۔پس خدا اس کو اپنے پاس بلالیتا اور وہ دنیا کی تکلیفوں اور شورشوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔اس نبی کے بلائے جانے کے بعد دنیا میں جو بیج بوئے ہوئے ہوتے ہیں وہ پھر نئی جد وجہد شروع کر دیتے ہیں۔نبوت خلافت کا جامہ پہن لیتی ہے اور خلافت کے ذریعہ پھر خدا کے لئے نئے قلوب کی فتح شروع ہو جاتی ہے۔یہی اس زمانہ میں ہوا اور جب ہم نے ایک جشن منایا، ایک خوشی کی تقریب سرانجام دی تو کسان کی زبان میں ہم نے یہ کہا کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی مگر کیا جانتے ہو کہ دوسرے لفظوں میں ہم نے کیا کہا؟ دوسرے لفظوں میں ہم نے یہ کہا کہ آج سے پچاس سال پہلے جو ایک بیج بویا گیا تھا اس بیچ کی فصل ہم نے کاٹ لی۔اب ہم ان بیجوں سے جو پہلی فصل سے تیار ہوئے تھے ایک نئی فصل بونے لگے ہیں۔اس عظیم الشان کام کے آغاز کے بعد تم سمجھ سکتے ہو کہ تم پر کتنی عظیم الشان ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔تم نے اب اپنے اوپر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ جس طرح ایک بیج بڑھ کر اتنی بڑی فصل ہو گیا اسی طرح اب تم ان بیجوں کو بڑھاؤ گے جو اس فصل پر تم نے بوئے ہیں اور اسی رنگ میں بڑھاؤ گے جس رنگ میں پہلی فصل بڑھی۔پس ہم نے جشن مسرت منا کر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جس طرح ایک بیج سے لاکھوں نئے بیج پیدا ہو گئے تھے اسی طرح اب ہم ان لاکھوں بیجوں کو از سر نو زمین میں ہوتے ہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ پچھلے پچیس یا پچاس سال میں جس طرح سلسلہ نے ترقی کی ہے اسی طرح اتنے ہی گھنے اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم آج کی جماعت کو بڑھا دیں گے۔یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں جو تم نے اپنے اوپر عائد کی۔گزشتہ پچاس سال میں ایک بیج سے لاکھوں بیج بنے تھے۔اب جب تک اگلے پچاس سال میں ان لاکھوں سے کروڑوں نہیں بنیں گے اس وقت تک ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں سمجھے جائیں گے۔اگر ہم جشن نہ مناتے ، اگر ہم یہ نہ کہتے کہ الْحَمْدُ لِلہ کہنے کا زمانہ آگیا تو ہم إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کا زمانہ بھی پیچھے ڈال سکتے تھے مگر جب ہم نے جشن منالیا اور پہلی فصل کاٹ لی تو بالفاظ دیگر ہم نے دوسری فصل کو بو دیا اور ہمارا کام از سر نو شروع ہو گیا اور جبکہ ایک بیج سے اتنے