خطبات محمود (جلد 21) — Page 309
1940ء 308 خطبات محمود طبقہ میں جماعت بد نام نہیں ہو سکتی ورنہ مخالف کی نگاہ میں تو ہم ہمیشہ بد نام ہی ہیں خواہ ہم میں س اور افراد ہوں یا نہ ہوں اور دراصل ایسے لوگوں کی نگاہ میں تو محمد رسول اللہ صلی الہیم بھی وو بعض کمزور بد نام ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بدنام ہیں اور اسی طرح اور تمام انبیاء اور مامورین بد نام ہیں بلکہ انبیاء تو کیا ان کی نگاہ میں خدا تعالیٰ بھی بدنام ہے۔ تم بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر دیکھ لو وہ ہمیشہ اس قسم کے سوالات کرتے ہوئے دکھائی دیں گے کہ خدا نے اس دکھ کی دنیا میں ہمیں کیوں پیدا کیا ؟ پھر وہ بر ملا کہتے ہیں کہ نَعُوذُ باللہ خدا قحط ڈالتا ہے، وہ بیماریاں پیدا کرتا ہے ، وہ زلزلے بھیجتا ہے ، وہ ظلم کرتا ہے، وہ امن برباد کرتا ہے۔ غرض لوگ تو کہا کرتے ہیں “ پانچوں عیب شرعی ” مگر ان کے نزدیک سینکڑوں عیب خدا تعالیٰ میں پائے جاتے ہیں اور جن کی نگاہ میں خدا تعالیٰ میں بھی عیب ہی عیب ہوں ان کے نزدیک اس کے انبیاء کب عیوب سے پاک سمجھے جاسکتے ہیں۔ پس میں ایسے شقی القلب لوگوں کا ذکر نہیں کرتا۔ وہ انسانیت سے دور چلے گئے اور انصاف کا دامن انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں صرف شریف الطبع لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی نگاہ میں چند منافقوں کے پائے جانے کی وجہ سے ہماری جماعت ؟ جماعت بد نام نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ دیکھ لو باوجو دا باوجود اس کے کہ ہماری جماعت میں بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو سست ہیں پھر بھی غیر احمدی شرفاء یہی کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سے بڑھ کر دین کی خدمت کرنے والی اور کوئی جماعت نہیں۔ اسی طرح احمد یوں میں بعض بے نماز بھی ہوتے ہیں مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ احمدیوں میں سو میں سے ایک یا دو بے نماز ہیں بلکہ لوگوں کا سمجھدار اور شریف الطبع طبقہ یہی کہتا ہے کہ احمدی بڑے نمازی ہوتے ہیں۔ اسی طرح سارے احمدی تو با قاعدہ چندے نہیں دیتے۔ کچھ لوگ سست بھی ہیں مگر تم شریف الطبع لوگوں سے یہی سنو گے کہ احمدی بڑا چندہ دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں جماعت کی اکثریت نیکی پر قائم ہے اور وہ بعض افراد کی کمزوری کو دیکھ کر ساری جماعت پر الزام عائد نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو اپنے اندر شرافت نہیں رکھتے وہ کسی ایک کمزور احمد ی کو دیکھ کر ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ احمدی بے نماز ہیں یا احمدی چندوں میں سست ہیں۔ بے شک ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کریں، ہمارا فرض ہے کہ ہم جماعت کی ایسی