خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 306

1940ء 305 22 خطبات محمود اپنے عملی نمونہ کو اسلام کے مطابق بناؤ اور دین کی خدمت کے لئے ہر قسم کی قربانی کرتے چلے جاؤ وو فرموده 23 اگست 1940ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” دوستوں کو معلوم ہے کہ میں نے جماعت کو تین حصوں میں منظم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ایک حصہ اطفال احمدیہ کا یعنی پندرہ سال تک کی عمر کے لڑکوں کا، ایک حصہ خدام الاحمدیہ سے میں کا یعنی سولہ سے چالیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا اور ایک حصہ انصار اللہ کا جو چالیس سال اوپر کے ہوں خواہ کسی عمر کے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ نوجوان جو خدام الاحمدیہ : شامل ہونے کی عمر رکھتا ہے لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوا اس نے ایک قومی مجرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہے مگر وہ انصار اللہ کی مجلس میں شامل نہیں ہوا تو اس نے بھی ایک قومی مجرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی بچہ اطفال احمد یہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا تھا اور اس کے ماں باپ نے اسے اطفال احمد یہ میں شامل نہیں کیا تو اس کے ماں باپ نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ مگر مجھے امید رکھنی چاہیئے کہ ایسے لوگ یا تو بالکل نہیں ہوں گے یا ایسے قلیل ہوں گے کہ ان قلیل کو کسی صورت میں بھی جماعت کے لئے کسی دھبہ یا بد نامی کا موجب قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قلیل استثناء کسی جماعت