خطبات محمود (جلد 21) — Page 300
1940ء 299 خطبات محمود ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے ہاں اس کا عذاب صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے نام تو لکھوا لئے مگر وعدے پورے نہ کئے۔ انہوں نے لوگوں میں جھوٹی عزت تو حاصل کر لی مگر خدا تعالیٰ کی لعنت کے مورد ہو گئے۔ میں نے اس امر کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے مگر پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو اس روش سے باز نہیں آتا۔ وہ نام تو لکھوا دیتے ہیں مگر وعدوں کو پورا نہیں کرتے اور ادا کرنے میں غافل رہتے ہیں۔ ان کا یہ فعل ہر گز مستحسن نہیں بلکہ صریح خسر ان کا موجب ہے۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی انسان اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کاٹ دے۔ دشمن اگر کسی کی ناک کاٹ دے تو یہ بھی بری بات ہے اور جب وہ گزرے تو لوگ کہتے ہیں کہ نکٹا جا رہا ہے مگر یہ لوگ تو ایسے ہیں کہ جیسے کوئی استرالے کر اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کاٹ دے اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص بالکل دیوانہ یا فاتر العقل ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جس چندہ میں پابندی کی کوئی شرط نہیں اس میں جو شخص اپنی مرضی سے پہلے نام لکھواتا ہے اور پھر عدم ادائیگی سے جماعت کو ذلیل کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی دیوانہ اور فاتر العقل ہے جیسے اُسترالے کر اپنی ناک خود کاٹنے والا۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ اس چندہ میں وعدے صرف وہی لوگ لکھوائیں جو خدا تعالیٰ کے دربار میں سَابِقُون میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ لوگوں میں جھوٹی عزت حاصل کرنے کے شائق نام نہ لکھوائیں مگر میں نے دیکھا ہے کہ پھر کئی لوگ یونہی نام لکھوا دیتے ہیں۔ کوئی شخص یہ خیال کرے کہ اسے کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے اور وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بھی ہو جائے یہ نام ں ہو جائے یہ ناممکن ہے۔ قربانی کے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا نا ممکن ہے۔ اس وقت جنگ ہو رہی ہے دیکھو ہزاروں لوگ جنگ میں قربانیاں کر رہے ہیں۔ آجکل جنگ کا وہ طریق نہیں رہا کہ تلوار ہاتھ میں لے کر ایک بہادر میدان میں نکل آتا تھا کہ آئے کون میرے مقابلہ پر آتا ہے۔ آج تو یہ حالت ہے کہ لوگ آرام سے گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں کسی کو علم بھی نہیں ہوتا اور اوپر سے ایک بم گرتا ہے اور کئی لوگ وہیں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ نہ کسی کو مقابلے کا موقع ملتا ہے ، نہ کوئی روک پیدا کر سکتا ہے۔ دل کے ارمان اور حوصلے نکالنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی مگر باوجود ایسے خطرات کی حالت کے کئی ایسے لوگ ہیں