خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 297

$1940 296 خطبات محمود کے بعد دوسرے کا موقع ملنے کا منتظر رہتا ہے اور تیار رہتا ہے کہ جب موقع آئے فوراً اسے ادا کرے۔مثلاً آموں کا موسم آتا ہے تو غریب سے غریب انسان بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس سے لذت اندوز ہوتا ہے حتی کہ جن غریبوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ وہی اٹھا کر کھا لیتے ہیں جو دکاندار گلے سڑے ہونے کی وجہ سے گلیوں میں پھینک دیتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ غرباء کے بچے دوسروں کے چوسے ہوئے آموں کی گٹھلیاں اٹھا کر چوسنے لگتے ہیں۔گویا موسم آتے ہی خود بخود آم کھانے کا شوق دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔ان کو کون کہنے جاتا ہے کہ موسم آگیا ہے آم خرید و اور کھاؤ بلکہ موسم شروع ہوتے ہی لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ معلوم نہیں آم کب تک آئیں۔ان کو کسی کی طرف سے تحریک کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ خود بخود تحریک پیدا ہوتی ہے۔یہی حال خربوزوں کا ہے۔پہلے ہی لوگ دریافت کرنے لگتے ہیں کہ خربوزے ابھی پچکے ہیں یا نہیں؟ بے موسم کے آم، خربوزے اور ترکاریاں ہمیشہ زیادہ قیمت پاتی ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ چونکہ خریدنے کے لئے اپنے اندر ایک تحریک پاتے ہیں اس لئے جن کی فصل کچھ پہلے تیار ہو جاتی ہے لوگ اسے خریدنے کے لئے دوڑتے ہیں اس لئے اس کی قیمت زیادہ دینی پڑتی ہے۔پس جس چیز کی لذت سے انسان آشنا ہو اس کے لئے کسی دوسرے کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔لوگ خود بخود اس کے انتظار میں رہتے ہیں کہ وقت آئے تو پہلا موقع جو ملے اس پر اسے حاصل کر لیں۔یہی حال نیکی کا ہے اگر مومن اس کی لذت سے آشنا ہو تو وہ کسی بیرونی تحریک کے بغیر اسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔اصل ایمان وہی ہے کہ جس میں انسان کسی کی یاد دہانی کے بغیر نیکی کے کام کرتا ہے اور پھر اس نیکی کے مقبول ہونے کی علامت یہی ہے کہ اور نیکیوں کی توفیق اسے ملے اور نیکی کرنے میں اسے لذت حاصل ہو۔یہ ایک ایسا معیار ہے جس کے مطابق ہر انسان اپنے ایمان کی آزمائش نہایت آسانی سے کر سکتا ہے۔بیسیوں لوگ ہیں جو اپنے ایمان کی آزمائش سے غافل رہتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک دن بے ایمان ہو جاتے ہیں اور پتہ بھی نہیں لگتا کہ کیا ہوا حالا نکہ اگر وہ روزانہ آزمائش کرتے رہتے تو ہلاکت سے بچ جاتے۔اس طریق پر ہر شخص اپنے ایمان کی آزمائش روزانہ کر سکتا ہے اور پتہ لگا سکتا ہے کہ وہ ایمان میں ترقی کر رہا ہے یا نیچے گر رہا ہے۔اگر