خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 298

$1940 297 خطبات محمود وہ دیکھے کہ مستقل طور پر وہ ایمانی لذت اور نیکی کی بشاشت سے محروم ہو رہا ہے تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیئے۔ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے جو ہر مومن پر کسی نہ کسی وقت وارد ہوتی ہے۔صحابہ نے ایک دفعہ آنحضرت صلی ای کم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ جب ہم آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں تو ہمارے ایمان تیز ہو جاتے ہیں مگر جب باہر جاتے ہیں تو یہ کیفیت نہیں رہتی۔آپ نے فرمایا کہ ہر وقت دوزخ تمہاری نظروں کے سامنے رہے تو مر نہ جاؤ - 2 پس یہ عارضی غفلت اور ہے۔کسی نہ کسی وقت آدمی کا دل آرام کرنے کو بھی چاہتا ہے۔کسی وقت وہ چاہتا ہے کہ اپنے بیوی بچوں میں بیٹھ کر باتیں کرے۔یہ اور بات ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے برسات کے موسم میں غریب سے غریب لوگ بھی کبھی نہ کبھی پکوڑے پکا لیتے ہیں مگر اسے کھانے میں عیاشی نہیں کہا جا سکتا۔کوئی شخص ان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بڑے عیاش ہیں۔فلاں دن بارش ہو رہی تھی اور ان کے گھر میں پوڑے پک رہے تھے۔یہ عیاشی نہیں عیاشی وہ ہے کہ انسان صبح اٹھتے ہی کھانے پینے میں لگ جائے اور شام تک اسی شوق میں لگار ہے۔کسی نہ کسی غریب کا پکوڑے، پر اٹھے یا چاول وغیرہ پکا لینا عیاشی میں داخل نہیں۔یہ تو غذا کا تنوع ہے جس سے صحت اچھی رہتی ہے۔یہی بات دینیات اور روحانیات میں ہے۔بالکل ہی غافل ہو جانا عیاشی ہے مگر کسی وقت اگر آدمی چاہے کہ آرام کرے یا بیوی بچوں میں بیٹھ کر باتیں کرے تو یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کبھی کوئی غریب آدمی پوڑے یا پراٹھے پکا لے۔جس طرح وہ عیاشی نہیں اسی طرح یہ بھی غفلت نہیں کہلا سکتی۔غفلت وہ ہے کہ دل پر ان چیزوں کی محبت غالب ہو جائے اور دین کی محبت اور لذت دل میں نہ رہے۔جیسے کھانے میں عیاشی اس کا نام ہے کہ انسان ہر وقت کھانے پینے کے اہتمام میں لگا رہے اور اپنے آپ کو کھانے میں ہی مقروض کر لے۔کبھی سال میں دو چار بار اچھی چیز پکا کر کھالینا یا عید کے موقع پر کوئی کپڑا بنالینا عیاشی نہیں کہلا سکتی۔اسی طرح کبھی آرام کی طرف مائل ہو جانا دین میں سستی نہیں کہلا سکتی۔قبض کی حالت بھی مومنوں پر آتی ہے اور یہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے مگر دینی کاموں میں بحیثیت مجموعی سستی اور غفلت کا پید اہو جانا ایسی بات ہے جس کا آسانی سے پتہ لگ سکتا ہے اور انسان معلوم کر سکتا ہے کہ اس کے ایمان کا درجہ کیا ہے۔