خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 235

خطبات محمود سال بھر کی دعا کی ضرورت ہو گی۔ 235 1940ء پس دعا اور چیز ہے اور انابت اور چیز۔ روزانہ اپنی پیش آمدہ ضروریات کے لئے جب انسان خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے تو گو اس کے دل میں یہ یقین اور تو کل ہوتا ہے کہ کام سب خدانے ہی کرنے ہیں لیکن وہ ان کو اتنا اہم نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ کے دامن کو پکڑلے اور کہے کہ میں اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک میرا مقصد پورا نہ ہوئے اور دعا دراصل یہی ہوتی ہے کہ جب کوئی امر انسان خدا تعالیٰ سے منوانا چاہے تو پھر اس وقت تک ہٹے نہیں جب تک خدا تعالیٰ اس کی مراد کو پورا نہ کر دے۔ پس یہ ایک شدید غلطی ہے جو عام طور پر لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے کہ وہ دعا اور انابت میں فرق نہیں کرتے۔ قرآن کریم نے دعا اور انابت کو الگ الگ رکھا ہے چنانچہ ایک مقام پر تو فرماتا ہے کہ انِيْبُوا إِلى رَبِّكُمْ - 1 اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ - 2 انابت ہمارے دل میں ہر وقت ہوتی ہے اور ہم ہر اور ہم ہر وقت اس سے کام لے سکتے ہیں۔ ن ہیں۔ مثلاً ہمیں پیاس لگتی ہے تو ہم دل میں کہتے ہیں کہ اللہ میاں آپ ہی ہمیں پانی پلا سکتے ہیں حالانکہ نوکر بھی موجود ہوتا ہے اور پانی بھی گھٹڑوں میں موجود ہوتا ہے اور ہم نوکر کو پانی لانے کے لئے کہہ بھی دیتے ہیں۔ ہم کیوں دل میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تو ہی پانی پلا سکتا ہے۔ اس لئے تو ہی مجھے پانی پلا۔ اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نو کر بھی اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے اور وہ اگر پانی پلائے گا تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کے منشاء کے ماتحت ہی پلائے گا یا اگر نو کر نہ ہو اور بیوی موجود ہو تو ہم اسی کو کہہ دیں گے کہ ہمیں پانی پلانا مگر اس کے ساتھ ہی ہمارے دل میں یہ یقین ہو گا کہ پانی پلانے والا خدا ہی ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو بیوی بچوں یا نوکروں کی کیا طاقت ہے کہ کسی کو پانی کا ایک گھونٹ بھی دے سکیں۔ پس ایسی حالت میں یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف ہم اپنے کسی نوکر یا بیوی بچے کو آواز دیتے ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر لیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ فضل نازل کرنے والا وہی ہے مگر ہم یہ نہیں کرتے کہ سجدے میں گر جائیں اور کہیں کہ ہم اس وقت تک اپنا سر نہیں اٹھائیں گے جب تک خدا ہمیں پانی نہیں پلائے گا۔ یہ انابت بعض دفعہ ایک سیکنڈ کی ہوتی ہے اور بعض دفعہ کچھ زیادہ وقت بھی لے لیتی ہے مگر بہر حال اس کا سلسلہ