خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 226

1940 226 خطبات محمود اور آپ کے رشتہ دار بھی اور آپ کے کئی بچے فوت ہوئے۔پس یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اگر تمہاری دعا اس قدر مقبول ہے تو خود کیوں بیمار رہتے ہو یا رشتہ دار کیوں بیمار ہوتے یا فوت ہوتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ اس معترض نے میرے اس اعلان پر تمسخر اڑاتے ہوئے یہ خیال نہ کیا کہ دعاؤں کے متعلق قرآن کریم میں وسیع قانون بیان ہیں۔بعض دعائیں یقینی طور پر قبول ہو جاتی ہیں، بعض یقینی طور پر رڈ ہوتی ہیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو قبول کرلے اور چاہے تو ر ڈ کر دے۔پھر جو قبول ہوتی ہیں ان کے متعلق بھی بعض شرائط ہیں۔اللہ تعالیٰ کی بعض سنتیں اور بعض قدر تیں ہوتی ہیں۔جو دعائیں یقینی طور پر قبول ہو جاتی ہیں وہ وہی ہوتی ہیں جو سنت اللہ یا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مطابق ہوں اور جو رڈ ہوتی ہیں وہ ان کے خلاف ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے کہ لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلى 9 مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے مگر کیا اس کے لئے دعانا واجب ہے ؟ کیا آنحضرت صلی اللہ اور اپنی فتح کے لئے دعائیں نہیں کرتے تھے ؟ کیا آپ یہ دعانہ کرتے تھے رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الفتحِينَ - 10 پھر کیا یہ دعا لغو تھی جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون موجود تھا کہ لَأَغْلِبَنَ آنَا وَ رُسُلی۔پس ان چیزوں کی تائید میں بھی دعائیں ہوتی ہیں اور وہ جزئیات کے لحاظ سے مفید بھی ہوتی ہیں۔مثلاً اگر وہ فتح دس سال میں ہونی ہے تو اس دعا کے ذریعہ نو سال یا آٹھ سال میں ہو جائے گی اور اس وجہ سے یہ دعائیں بھی بے اثر نہیں ہو تیں۔بہر حال جو دعائیں خدا تعالیٰ کی قدرت اور سنت کے مطابق ہوں وہ ضرور قبول ہو جاتی ہیں اور جو خلاف ہوں وہ ضرور رڈ ہو جاتی ہیں۔مثلاً کوئی شخص خواہ کتنا نیک کیوں نہ ہو اپنی جہالت کی وجہ سے اگر مُردے کے پاس بیٹھ کر دعائیں کرے کہ وہ زندہ ہو جائے تو یہ کبھی نہ ہو گا خواہ وہ ناک رگڑ رگڑ کر مر جائے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی سنت اور اس کی قدرت کے خلاف ہے۔تو بعض دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، بعض ضرور رڈ ہوتی ہیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں جو کبھی قبول ہو جاتی ہیں اور کبھی رڈ۔بعض دفعہ تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ یہ دعائیں بھی ضرور قبول ہونے والی ہو جاتی ہیں اور