خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 20

1940ء 20 خطبات محمود ایسے ریگستان میں ڈال دیا جائے جہاں پانی نہیں اور جہاں مٹی کا ایک ذرہ نہیں اس کے لئے بھی بڑھنے کا کچھ نہ کچھ موقع ہو سکتا ہے۔ اس بلبلے کو بھی کچھ دیر زندہ رہنے کا موقع مل جاتا ہے جسے سمندر کی ہوائیں اِدھر اُدھر لے جاتی ہیں۔ مگر اس کے لئے تو اتنی بھی امید نہ تھی جتنی بلبلے کے متعلق سمندر کی لہروں میں امید کی جاتی ہے اور اس کے لئے اتنی بھی امید نہ تھی جتنی اس بیج کے متعلق کی جاسکتی ہے جو ایک وسیع ریگستان میں ڈال دیا جائے۔ پھر کوئی شخص نہ تھا جس سے وہ مشورہ کر سکتا۔ اور وہ مشورہ کرتا تو کس سے کرتا ؟ یہ انسانی آواز نہ تھی کہ اس کے متعلق کسی انسان سے مشورہ لیا جاتا۔ اگر انسانی آواز ہوتی تو کسی دوسرے سے مشورہ لیا جا سکتا تھا اور کہا جا سکتا تھا کہ ایک انسان نے مجھے یہ بات کہی ہے۔ تمہارے بھی جذبات چونکہ ایسے ہی ہیں جیسے اس کے۔ اس لئے مجھے مشورہ دو کہ میں کیا کروں اور کس طرح دنیا کا مقابلہ کروں؟ مگر یہ آواز خدا کی آواز تھی اس لئے وہ کسی بندے سے مشورہ نہیں کر سکتا تھا اور نہ کوئی بندہ ایسا تھا جو اسے مشورہ دے سکتا۔ رض آنحضرت صلی الم کو بھی جب پہلی دفعہ یہ آواز آئی تو اس وقت آپ کی جو قلبی کیفیت ہوئی اس کا پتہ حدیثوں سے لگتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ اس آواز کے بعد آپ گھر تشریف لائے۔ آپ بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ جسم کانپ رہا تھا، کندھوں کا گوشت شدتِ ت ہیت سے ہل رہا تھا اور رنگ اڑا ہو اتھا۔ آپ کی وفادار بیوی حضرت خدیجہ نے جب آپ کو اس حال میں دیکھا تو انہوں نے گھبرا کر کہا کہ میں آپ کو کس حال میں دیکھتی ہوں؟ آپ کو یہ کیا ہو گیا ہے ؟ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا خدیجہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا ہو گیا؟ مجھے یہ آواز آئی ہے اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - 3 آسمان کے خدا نے مجھے بلایا ہے تاکہ میں اس کے نام کولوں اور اسے دنیا میں پھیلاؤں۔ میں حیران ہوں کہ میں اس کام کو کس طرح کروں گا؟ خدائی آواز چونکہ اپنے ساتھ یقین کے انوار رکھتی ہے اس لئے رسول الله س کریم صلی الم نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ مجھے بیماری ہو گئی ہے۔ آپ نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ بہ علیرم یہ کوئی دماغی عارضہ ہے یا بد ہضمی کا نتیجہ ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ یہ ہے تو آسمان کی آواز مگر جو کام میرے سپر د کیا گیا ہے میں حیران ہوں کہ اسے کس طرح کروں گا؟ حضرت خدیجہ آخر