خطبات محمود (جلد 21) — Page 173
1940ء 173 خطبات محمود یہ پیشگوئی بھی تو ہمارے ہی ذریعہ پوری ہونی تھی۔ اگر ہم میں ایسے لوگ نہ ہوتے تو کیا یہ پیشگوئی عیسائیوں کے ذریعہ پوری ہوتی یا یہودیوں کے ذریعہ پوری ہوتی یا سکھوں اور ہندوؤں کے ذریعہ پوری ہوتی یا زرتشتیوں اور بدھوں کے ذریعہ پوری ہوتی یا یہ ان مسلمانوں کے ذریعہ پوری ہوتی جو پہلے ہی ایک مامور کا انکار کر کے اپنے آپ کو اسلام کی صحیح تعریف سے خارج کر چکے ہیں۔ اس پیشگوئی کا مفہوم یہ ہے کہ یہ زمانہ اس قدر منافقت کا ہو گا اور شیطان کا ایسا غلبہ ہو گا کہ انسان رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کافر اٹھے گا مگر اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا بھی ایسا جوش اس زمانہ کے لئے رکھا ہے کہ رات کو ایک شخص کافر سوئے گا اور صبح کو مومن اٹھے گا۔ گویا ایک طرف سے اگر پانی نکلے گا تو دوسری طرف سے ذخیرہ پورا بھی ہوتا رہے گا اور جب خصوصیت سے اس زمانہ کے متعلق یہ پیشگوئی ہے تو اس امر کی کتنی ضرورت ہے کہ ہم ہر وقت یہ اعلان کریں کہ ہم کون ہیں تاکسی کو ہمارے متعلق شبہ نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی الم نے خدا تعالیٰ کے حکم سے دن میں پانچ بار اذان کا حکم دیا۔ (یاد رہے کہ اذان الہامی ہے بلکہ بعض صحابہ کو بھی رویا میں اس کے الفاظ سکھائے گئے تھے) اور اس کے ذریعہ مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اپنے عقائد کا اعلان کرتے ہیں۔ مؤذن ہر مرتبہ دنیا کو بتاتا ہے کہ اس رات سے اٹھنے کے بعد بھی میں مومن ہوں اور اب بھی میر اعقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی الم) اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے کام کاج میں لگ جاتا ہے اور قسم قسم کے ابتلا اس کے سامنے آتے ہیں۔ کئی لوگ اسے فریب دینا چاہتے ہیں اور غیر مذاہب کے لوگ بھی آ آکر طرح طرح کی باتیں اس سے کرتے ہیں اور اسے اپنے عقائد سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب ظہر کا وقت ہوتا ہے تو وہ پھر کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہے کہ بے شک میرے سامنے کئی لالچ آئے، لوگوں نے مجھے ورغلانا چاہا مگر پھر بھی میر اعقیدہ وہی ہے جو صبح تھا۔ پھر عصر کا وقت آتا ہے جب وہ کام کاج سے تھک جاتا ہے اور تکان سے چور ہو جاتا ہے ، کاروبار کے گھاٹے اس کے سامنے آتے ہیں، کئی قسم کی مایوسیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس وقت مسلمان کھڑا ہو کر پھر وہی فقرے دہراتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ گویا عصر کا وقت آگیا مگر میرے ایمان میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اندھیرا ہو جاتا ہے اور س