خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 151

خطبات محمود 151 1940ء کوئی مددنہ مدد نہ کی۔ گویا ایسے سینیا، البانیہ آسٹریا، فن لینڈ ، چیکوسلواکیا، پولینڈ اور ڈنمارک کی سات مثالیں ان کے سامنے موجود تھیں اور لوگوں کے یہ اعتراضات بھی ان کے سامنے تھے کہ ان تمام ممالک پر حملے ہوئے مگر اتحادیوں نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جسہ جب ناروے ، ہالینڈ اور بیلجیئم پر حملہ ہوا تو انہوں نے سمجھا اگر اب بھی ہماری فوجیں ان کی مدد کو نہ پہنچیں تو یہ اعتراض اور بھی پختہ ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس اعتراض سے گھبرا کر اپنی فوجیں آگے کی طرف دھکیل دیں جس کے نتیجہ میں ان کے شمالی مورچے بالکل خالی ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی جس جرنیل کو انہوں نے بلجیئم کی سرحد پر بھیجا اس سے ایک خطر ناک نادانی یہ ہوئی کہ اس نے دریا کے پل نہ اڑائے۔ حالانکہ قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب فوج کے ڈیفنس کا پہلو اختیار کرنا ہو تو وہ دریاؤں کے پل فوراً اڑا دیتی ہے تاکہ دشمن ان پلوں کے ذریعہ سے ملک کی حدود میں داخل نہ ہو جائے مگر اس جرنیل نے پلوں کو نہ اڑایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چونکہ جرمنوں کی توپوں سے ان کی تو ہیں اور ان کے ٹینکوں سے ان کے ٹینک کم تھے۔ ابتدائی بمبار ڈمنٹ کے بعد ہی اتحادیوں کی فوجوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور جرمن فوج بغیر کسی روک کے فلنڈرز (Flinders) میں گھس آئی۔ دوسری غلطی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے فوج کے پیچھے دوسری ڈیفنس لائن نہیں بنائی تھی۔ حالانکہ جو فوج ڈیفنس کر رہی ہو اس کے لئے ایک دوسری ڈیفنس لائن ضروری ہوتی ہے تا اگر دشمن کسی جگہ سے پہلے مورچوں کو توڑ دے تو اسے آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ مگر ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے ڈیفنس کی ایک ہی لائن پر اکتفا کی اور جب دشمن نے پہلی صفوں کو توڑ دیا تو اب مقابلہ کے لئے کوئی اور فوج اس کے سامنے نہیں تھی اور سارا فرانس اس کے سامنے کھلا پڑا تھا۔ غرض اس جنگ میں ایسے اتفاقات جمع ہو گئے کہ جن کے نتیجہ میں جرمنی کا رعب آپ ہی آپ قائم ہو تا چلا گیا اور لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ جہاں بھی ہاتھ مارتا ہے جیت جاتا ہے۔ اس کا اس کا اثر یہ ہے کہ عام طور پر جنگی فنون دن سے ناواقفیت کی وجہ سے خیال کیا جاتا ہے کہ جرمنوں کی خبریں زیادہ صحیح ہوتی ہیں اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی خبریں غلط ہوتی ہیں۔ حالانکہ میرا تجربہ اس کے بالکل الٹ ہے میں جرمنی کی خبریں بھی سنتا ہوں اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی خبریں بھی سنتا ہوں۔ مگر مجھ پر یہی