خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 135

1940 135 خطبات محمود شکست ہوئی مگر مجھے خدا تعالیٰ نے شرمندگی سے بچانا تھا میرے پاس ایک ہی دن پہلے دلاور خان صاحب کا بیعت کا خط آپ کا تھا۔میں نے کہا سر عبد القیوم صاحب! بے شک آپ کے خیال میں ہمارے آدمی کو شکست ہوئی مگر دیکھا تو نتائج کو چاہیئے۔دلاور خان صاحب کا بیعت کا خط کل مجھے مل چکا ہے۔یہ بات سن کر وہ کہنے لگے کہ اچھا! اب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا ہے میں پھر آپ سے بات کروں گا۔تو فتح کے سامان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ڈلہوزی میں جو صلح ہوئی تھی میں نے اس کی پابندی کی اور نرمی سے کام لیا مگر پیغامیوں نے اس کی پر واہ نہ کرتے ہوئے پھر سخت کلامی شروع کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ صلح کرانے والوں میں سے دو آدمی اس وقت تک بیعت میں شامل ہو چکے ہیں۔سید عبد الجبار صاحب پر بھی حجت تو پوری ہو چکی ہے مگر ابھی تک انہوں نے بیعت نہیں کی۔ان کو اپنی بہن پر بڑا اعتقاد ہے اور ان کی بہن کو اپنی خوابوں پر بڑا اعتقاد ہے اور ان کا خیال ہے کہ ان کے پاس جن آتے ہیں اور باتیں وغیرہ کرتے ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ جو جن آتے ہیں وہ میری ہی بیعت کرتے ہیں اور سید صاحب ہنس کر کہا کرتے ہیں کہ جن تو آپ کی بیعت ہی کرتے ہیں۔وہ جن ہیں یا فرشتے؟ جو بھی ہیں بہر حال ان کا میری بیعت کرنا ان کے لئے حجت ہے مگر انہوں نے ابھی تک بیعت نہیں کی۔پس ہمیشہ نرمی سے کام لو اور محبت دکھاؤ۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ دیو دعاؤں اور روزوں سے نکلا کرتے ہیں۔دیو سے مراد تعصب ہے اور روزہ بھی دراصل دعا کا ہی حصہ ہے کیونکہ روزہ سے دعا میں طاقت پید اہوتی ہے اور روزہ دعا کو زبر دست کر دیتا ہے۔قرآن کریم نے بھی بتایا ہے کہ روزہ کے ایام میں جو دعائیں کی جائیں وہ قبول ہوتی ہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس کام کو اختیار کرتے وقت تقویٰ اور خشیت الہی سے کام لیں۔فتح وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو۔جس فتح میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو اُس سے شکست بہتر ہے جو اس کی رضا کے ماتحت ہو۔