خطبات محمود (جلد 21) — Page 122
1940ء 122 خطبات محمود مرزا محمود احمد صاحب سے قادیان ملنے گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی ہے۔ جب انہیں پتہ لگا کہ میں ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں تو وہ ڈرے کہ نشہ چڑھا ہوا ہے ایسا نہ ہو کہ اسے پتہ لگ جائے۔ چنانچہ انہوں نے ملاقات میں دو تین گھنٹے دیر لگا دی اور کہہ دیا کہ میں ابھی نہیں مل سکتا۔ دو تین گھنٹے کے انتظار کے بعد انہوں نے مجھے بلوایا اور میں نے جاتے ہی فوراً پہچان لیا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی کیونکہ ان کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی مگر انہوں نے اس بات کو چھپانے کے لئے عطر مل رکھا تھا۔ شیخ غلام محمد صاحب نے اس رسالہ میں یہ بھی لکھا تھا کہ میں نے اس مضمون کا رجسٹری خط امام جماعت احمدیہ کو بھجوایا تھا مگر مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اب میں انہیں اس رسالہ کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ پیغامیوں کے حلقہ میں آپ کے متعلق یہ بات زور سے پھیلی ہوئی ہے۔ میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ آپ اس پیغامی ڈاکٹر کو ایک رجسٹر ڈ خط لکھیں جس میں ان سے دریافت کریں کہ یہ بات جو شائع ہوئی ہے کہاں تک درست ہے۔ ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم خود بخود یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ نے واقع میں یہ کہا ہو گا لیکن چونکہ یہ بات شائع ہو چکی ہے اس لئے آپ ہمیں بتائیں کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط۔ میری غرض یہ تھی کہ اگر انہوں نے جواب دیا تو اصل بات خود ان کی زبان سے معلوم ہو جائے گی اور اگر جواب نہ دیا تو یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ انہوں نے واقع میں یہ بات کہی ہے۔ ایک مہینہ گزرنے کے بعد میں نے پرائیویٹ سیکر ٹری صاحب سے دریافت کیا کہ کیا ان کا کوئی جواب آیا تو انہوں نے بتایا کہ کوئی جواب نہیں آیا۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کی اخلاقی حالت کس قدر گری ہوئی ہے۔ حالانکہ واقعہ صرف یہ تھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب کو اپنے ہمراہ لے کر وہ میری ملاقات کے لئے آئے۔ پرائیویٹ سکرٹری نے کہا کہ آجکل ملاقاتیں تو بند ہیں مگر چونکہ آپ خاص طور پر ملاقات کے لئے ہی آئے ہیں اس لئے میں اطلاع کر ا دیتا ہوں۔ انہوں نے مجھے اطلاع کی اس وقت میری بیوی ایک خادمہ کے ساتھ مل کر کمروں کی صفائی کر رہی تھی اور گر دو غبار اڑ رہا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ اگر بر آمدہ میں بھی ہم بیٹھے تو مٹی اور گرد کی وجہ سے انہیں تکلیف ہو گی اس لئے بہتر یہی ہے کہ پہلے کمروں کی صفائی کر لی جائے۔ چنانچہ میں نے