خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 106

$1940 106 خطبات محمود کہ ہماری اس قدر ہتک کی گئی ہے کہ اب ہم قادیان میں نہیں ٹھہر سکتے۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو وہ جماعت کا ایک بہت بڑا ستون سمجھتے تھے۔ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اس طرح گھبرائے ہوئے آئے کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا ہے اور آتے ہی سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ بڑی خطر ناک بات ہو گئی ہے۔آپ جلدی کوئی فکر کریں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور میں اب قادیان میں نہیں رہ سکتا۔آپ جلدی سے کسی طرح ان کو منوالیں۔ایسا نہ ہو کہ وہ قادیان سے چلے جائیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرما یا ڈاکٹر صاحب میری طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو جا کر کہہ دیں کہ اگر انہوں نے کل جانا ہے تو آج ہی قادیان سے تشریف لے جائیں۔ڈاکٹر صاحب جو سمجھتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کے جانے سے نہ معلوم کیا ہو جائے گا۔آسمان ہل جائے گا یا زمین لرز جائے گی۔انہوں نے جب یہ جواب سنا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے کہا میرے نزدیک تو پھر بڑافتنہ ہو گا۔حضرت خلیفہ اول نے فرما یاڈاکٹر صاحب میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اگر فتنہ ہو گا تو میرے لئے ہو گا آپ کیوں گھبراتے ہیں۔آپ انہیں کہہ دیں کہ وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں تو کل کی بجائے آج ہی چلے جائیں۔غرض اسی طرح یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ اس طرح ہماری دال نہیں گلتی تو انہوں نے غیروں میں تبلیغ کرنی شروع کر دی اور سمجھا کہ عزت اور شہرت کے حاصل کرنے کا یہ ذریعہ زیادہ بہتر ہو گا۔اس تبلیغ کے سلسلہ میں کہیں انہوں نے نبوت کے مسائل میں ایسا رنگ اختیار کرناشروع کر دیا جس سے غیر احمدی خوش ہو جائیں، کہیں کفر و اسلام کے مسئلہ میں انہوں نے مداہنت سے کام لینا شروع کر دیا۔چنانچہ یہ نبوت اور کفر و اسلام وغیرہ مسائل 1910ء کے شروع میں پیدا ہوئے ہیں بلکہ ان مسائل نے اصل زور 1910ء و1911ء میں پکڑا ہے۔اس سے پہلے 1908ء اور 1909ء میں صرف خلافت کا جھگڑا تھا۔کفر و اسلام اور نبوت وغیرہ کے مسائل کے باعث اختلاف نہیں تھے۔اس وقت ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ