خطبات محمود (جلد 21) — Page 469
$1940 468 خطبات محمود یہاں کے سکول میں تعلیم پانے والے وہ میٹرک جنہوں نے سائنس کی ہوئی ہو۔باہر میٹرک پاس کرنے والے کام نہیں دے سکتے کیونکہ یہاں پڑھنے والوں کو تھوڑا بہت قرآن کریم اور عربی آجاتی ہے باہر نہیں۔پس ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں۔طالب علم بھی اپنے نام پیش کر سکتے ہیں جنہیں امتحان پاس کرنے کے بعد انتخاب کے لئے بلایا جائے گا۔پس نوجوان اپنے آپ کو ان شرائط کے ماتحت وقف کریں تا اس جماعت کو اور آگے بڑھایا جاسکے۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ سادہ زندگی ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات دنیا میں پیدا کر دیئے ہیں کہ جن لوگوں کی نقل کر کے ہمارے ملک کے لوگ عیش پرستی میں مبتلا ہوئے وہ جنگ کے مصائب میں مبتلا ہو کر مجبور سادگی اختیار کر رہے ہیں اور اب تو ان کی سادگی ہماری اختیار کردہ سادگی سے بھی بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ہم نے یہ تو کہا ہے کہ ایک سالن کھاؤ مگر یہ نہیں کہ چار بجھلکے ہی کھاؤ۔مگر یورپ کے ممالک میں تو اب آٹے کا راشن ملتا ہے۔ایک شخص مقررہ مقدار سے زیادہ نہیں لے سکتا۔ہم نے سالن میں گھی ڈالنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی کوئی شخص جتنا ڈال سکے ڈال لے مگر وہاں تو ایک چھٹانک سارے ہفتہ کے لئے مل سکتا ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔اور وہ گھی کی صورت میں نہیں بلکہ کچھ گھی کچھ تیل اور کچھ چربی ہوتی ہے۔اند از دو تولہ چربی دو تولہ تیل اور ایک تولہ مکھن ملتا ہے۔یہی حال لباس اور دوسری چیزوں کا ہے۔جب ان لوگوں کی یہ حالت ہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہمیں کس قدر سادگی کی ضرورت ہے۔پس دوستوں کو ہمیشہ ایک کھانے کا التزام رکھنا چاہیئے۔ہاں جمعہ کے روز یا مہمان وغیرہ آنے پر دو ہو سکتے ہیں یا مہمان کی عادت کے مطابق اس کے لئے انتظام ہو سکتا ہے۔غیر احمدی معززین آجائیں تو کئی کئی کھانوں کے بغیر ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ایسی صورت میں اجازت ہے ورنہ ایک پر ہی کفایت کرنی چاہیے۔اور پھر اس میں بھی سادگی کا پہلو مد نظر رکھنا چاہیے تا غریب بھائیوں اور دوسروں میں یکسانیت پیدا ہو سکے۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص ایک ہی کھانا کھائے مگر روزانہ پلاؤ ہی کھاتا رہے مگر یہ بھی جائز نہیں۔اور پھر اس سے صحت بھی خراب ہو جائے گی۔انسان کی صحت کو بر قرار رکھنے کے لئے چاول گوشت پھل سبزی وغیرہ ہر چیز ضروری ہے اور ان