خطبات محمود (جلد 21) — Page 451
$1940 450 خطبات محمود پرواہ نہ کی اور اس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی الم کی ذات سے تھا منزلیں طے کرتے ہوئے لشکر سے آملے۔5 اسی طرح مدینہ میں کچھ اور لوگ بھی تھے جو اس خیال میں رہے کہ آج نہیں تو کل چل پڑیں گے۔کل خیال کر لیا کہ پرسوں روانہ ہو جائیں گے۔آخر جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے خیال کیا کہ اب اتنا لمبا سفر ہم سے کہاں طے ہو سکتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس جہاد میں شامل ہونے سے محروم رہ گئے۔6 تو وقت کو ضائع کرنا بہت بڑی حماقت ہوتی ہے۔ہمارے سامنے بھی اس وقت تحریک جدید کا ایک جہاد ہے جس کا سفر دس منزلوں پر مشتمل ہے۔ان دس منزلوں میں سے چھ منزلیں طے ہو چکی ہیں اور صرف چار منزلیں باقی رہتی ہیں۔جو لوگ اب تک اس میں شامل نہیں ہوئے ان کے لئے بے شک چھ منزلیں اکٹھی طے کرنا مشکل ہے مگر سات منزلیں اکٹھی طے کرنا ان کے لئے اور بھی مشکل ہو گا۔اور آٹھ یانو یا دس منزلیں اکٹھی طے کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہو گا۔بے شک جنہوں نے یہ سفر پہلے طے نہیں کیا ان پر اب ان منزلوں کو یکدم طے کرنا گراں گزرے گا مگر انہیں سمجھ لینا اہیئے کہ اگر اس وقت انہوں نے اس بوجھ کو برداشت نہ کیا تو یہ گرانی سال بسال بڑھتی چلی جائے گی۔پس میں ان نوجوانوں کو جو اس سال کے دوران میں بر سر کار ہوئے ہیں یا ان غرباء کو جنہیں خدا تعالیٰ نے اب وسعت دے دی ہے یا ان لڑکوں کو جو پہلے بالکل چھوٹے تھے مگر اب وہ بڑے ہو گئے ہیں اور انہیں اس تحریک کی اہمیت کا علم ہو گیا ہے یا انہیں اپنے ماں باپ کی جائداد میں سے کوئی حصہ مل گیا ہے یا ان لوگوں کو جو پہلے احمدی نہیں تھے مگر اس عرصہ میں وہ احمد کی ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی توفیق بھی ہے توجہ دلا تا ہوں کہ منزل قریب آرہی ہے، سفر خاتمہ کے قریب پہنچ گیا ہے اور چوٹی پر پہنچ کر اب مجاہدین کا لشکر نیچے اتر رہا ہے۔ایسانہ ہو کہ منزل ختم ہو جائے اور تمہارے لئے حسرت کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔میں اس امر کی طرف بھی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بارہا کہا ہے ہر مومن اور مخلص کو چاہیے کہ وہ اپنی توفیق کے مطابق ہر سال