خطبات محمود (جلد 21) — Page 341
$1940 340 خطبات محمود رپورٹ پہنچی کہ اس نے اپنے عہدہ کا ناجائز استعمال کیا ہے تو میں اسے سخت سزا دوں گا۔اس کے بعد میں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک اخبار میرے سامنے پیش کیا ہے جس میں ایک شادی کے سلسلہ میں ایک احمدی عورت کے یہ الفاظ شائع ہوئے ہیں کہ اس کی مثال عائشہ جیسی ہے۔میں نے وہ اخبار خود بھی پڑھا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ یہ غلطی ہے مگر میں نے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہ سمجھی۔جب جماعت کے اور دوستوں کے نوٹس میں بھی یہ بات آئی اور انہوں نے اس کے متعلق مجھے بعض خطوط لکھے تو انہیں پڑھ کر مجھے یہ خیال آیا کہ جیسے دو چار آدمیوں کے دلوں میں یہ شبہات پید اہوئے ہیں ممکن ہے ایسے ہی شبہات بعض اور لوگوں کے دلوں میں بھی پید اہوئے ہوں اس لئے ضروری ہے کہ میں اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔اگر اخبار میں یہ بات نہ آتی تو اس کی حیثیت بالکل اور ہوتی اور ذاتی طور پر اس کی اصلاح کی جاسکتی تھی مگر اب چونکہ یہ بات اخبار میں آگئی ہے اور اخبار میں آجانے کی وجہ سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کی نظروں سے یہ بات گزری ہو گی اس لئے میں اس بارہ میں کھلے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ویسا ہی غلو ہے جیسے ناظر یہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ ناظر ہیں اس لئے دنیوی معاملات میں بھی وہ لوگوں کے حکمران ہیں حالانکہ ان معاملات میں وہ ویسی ہی حیثیت رکھتے ہیں جیسے جماعت کا کوئی اور فرد ، چاہے وہ کیسی ہی ادنیٰ حالت کیوں نہ رکھتا ہو۔اسی طرح اس معاملہ میں بھی غلو سے کام لیا گیا ہے۔میرے پاس سال ڈیڑھ سال ہوا یہ بات پہنچی کہ ہماری جماعت کے دو مبلغ جن میں سے ایک ریٹائر ڈ ہیں اور دوسرے ابھی کام کر رہے ہیں مگر وہ دونوں ہی بڑی عمر رکھتے ہیں شادی کرنا چاہتے ہیں۔جب ان کی یہ بات لوگوں میں پھیلی تو قادیان میں ایک طوفان بے تمیزی برپا ہو گیا اور میرے پاس رقعوں پر رقعے آنے لگ گئے کہ بھلا بڈھے آدمیوں کو شادی کی کیا ضرورت ہے ، انہیں اس بات سے روکا جائے۔میں نے انہیں جواب دیا کہ بڑھے آدمی کو تو شادی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اسے کسی ایسے مونس و غمگسار ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی خدمت کرے۔بیوی صرف شہوانی ضرورتوں کو پورا نہیں کرتی بلکہ اور بھی