خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 318

$1940 317 خطبات محمود خبر پہنچی ہے ان کو چوہدری فتح محمد صاحب کے خلاف کوئی شکایت تھی اور شکایتیں دنیا میں ہوتی ہی رہتی ہیں۔بھائیوں کو بھائیوں سے ، باپ کو بیٹے سے اور بیٹے کو باپ یا ماں سے ، بہنوں کو بھائیوں سے اور بھائیوں کو بہنوں سے بھی شکایتیں ہو جاتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے انسان عقل سے باہر نہیں ہو جاتا۔احمدی جماعت کے لئے ایسے مواقع پر یہ رستہ کھلا ہے ہم نے قضاء کا محکمہ اسی واسطے بنایا ہوا ہے کہ جب کسی کو کسی کے خلاف کوئی شکایت ہو تو وہ قضاء میں جاسکتا ہے اور اگر شکایت اس قسم کی ہو کہ قضاء اس کا ازالہ نہ کر سکتی ہو تو وہ بہ اجازت سلسلہ عدالت میں جاسکتا ہے اور اگر مجرم قابل دست اندازی پولیس ہے تو وہ سلسلہ کو اطلاع دے کر پولیس میں جاسکتا ہے۔یہ اطلاع اس لئے ضروری رکھی ہے کہ کوئی شخص یہ سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے کہ یہ فعل قابل دست اندازی پولیس ہے۔ممکن ہے جو اسے قابلِ دست اندازی سمجھے لیکن حقیقتاً وہ نہ ہو۔چونکہ انسان اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے اس لئے یہ اطلاع ضروری رکھی ہے کہ تا اگر سلسلہ مناسب سمجھے تو اپنی ذمہ داری پر اسے روک دے۔اس صورت میں گورنمنٹ کے سامنے جوابدہ سلسلہ خود ہو گا وہ نہیں۔یہ اصول مقرر ہیں اور جو انہیں تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنے لئے خود کوئی رستہ تجویز کرتا ہے وہ گویا اپنے فعل سے سلسلہ کا باغی اپنے آپ کو قرار دے لیتا ہے۔یہ مسجد ہے اور اس میں داخل ہونے کے لئے دروازے ہیں لیکن جو شخص دروازہ سے اندر نہیں آتا بلکہ دیواریں کھودنے لگتا ہے اور کہتا یہ ہے کہ میں مسجد میں آنا چاہتا ہوں اس کے اس دعویٰ کو کوئی شخص سچ نہیں سمجھے گا بلکہ ہر کوئی یہی کہے گا کہ وہ فساد کرنا چاہتا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ وہ مقرر کردہ رستہ سے مسجد میں نہیں آتا۔اسی طرح ہم نے قضاء کا محکمہ قائم کر رکھا ہے جسے کسی سے کوئی تکلیف پہنچے وہ قضاء میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے لیکن جو ایسا نہیں کرتا بلکہ کوئی دوسرا طریق اختیار کرتا ہے وہ گویا اپنے فعل سے بغاوت کا اعلان کرتا ہے۔ہو سکتا ہے کوئی کہے مجھے قضاء پر اعتبار نہیں تو مرافعہ کر سکتا ہے اور دو قاضی اس کا کیس سنتے ہیں پھر اگر ان پر بھی اسے اعتماد نہ ہو تو آخری اپیل خلیفہ خود یا اس کا مقرر کردہ بورڈ جو زیادہ ذمہ دار اور مخلص احمدیوں پر مشتمل ہوتا ہے سنتا ہے اور جو کہے کہ مجھے ان پر بھی اعتماد نہیں تو میں کہوں گا کہ تم جماعت میں شامل ہی کیوں ہو ؟ جب یہ ساری جماعت ہی برے لوگوں اور بد معاشوں کی ہے