خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 299

خطبات محمود 298 $1940 یہ تمہید میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ تحریک جدید کے اس سال کے اعلان پر آٹھ ماہ گزر چکے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی اس سال کی نصف رقم وصول نہیں ہوئی۔ابھی آتے وقت مجھے ایک فہرست دی گئی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں جن کے احمدیوں کی مجموعی تعداد 6، 7 ہزار سے زیادہ نہ ہو گی ستر کے قریب ایسی ہیں کہ جن کی طرف سے ابھی کوئی پیسہ بھی وصول نہیں ہوا۔یہ جماعتیں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں۔بعض میں چھ سات سے زیادہ احمدی نہیں اور بعض دور دراز گوشوں میں ہیں۔ان کی طرف سے ابھی ایک پیسہ بھی وصول نہیں ہوا۔پھر ایک خاصی تعداد ایسی ہے جن کی وصولی 33 فیصدی سے زیادہ نہیں یعنی ان میں سے کسی کی وصولی دس فیصدی ہے ، کسی کی بارہ فیصدی، کسی کی ہیں ، کسی کی تیں اور کسی کی 33 فیصدی۔پھر بعض وہ ہیں جن کا 33 سے پچاس فیصدی کے درمیان چندہ وصول ہوا ہے اور کچھ وہ ہیں جن کا پچاس سے ستر فیصدی تک اور بہت تھوڑی جماعتیں ایسی ہیں جن کو قریباً سارا یا بہت سا حصہ وصول ہو چکا ہے۔حالانکہ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ ادا نہیں کر سکتے وہ اپنے نام نہ لکھوائیں۔ایسے لوگ جماعت کی ترقی کا موجب نہیں ہوتے بلکہ نقصان کا موجب ہوتے ہیں۔مومن کے وعدے پر اعتبار کر لیا جاتا ہے اور وعدوں کی مجموعی رقم کے مطابق پروگرام بنالیا جاتا ہے لیکن اگر ان میں سے کچھ وعدے پورے نہ ہوں تو نقصان لازمی ہے۔فرض کرو دس آدمی وعدہ کرتے ہیں اور ان کے وعدے کے مطابق پروگرام بنالیا جاتا ہے اب اگر ان میں سے چار اپنا وعدہ پورا نہ کریں تو اس کام کو جو نقصان پہنچے گا اس کا گناہ انہی لوگوں پر ہو گا جنہوں نے دھوکا دیا۔اگر وہ نام نہ لکھواتے تو سلسلہ مقروض نہ ہوتا۔سلسلہ نے ان کو ایماندار سمجھا اور ان کے وعدوں پر اعتبار کیا مگر دراصل وہ بے ایمان تھے اور دھوکا دینے والے تھے اس لئے سلسلہ کو مقروض ہونا پڑا۔میں نے بار بار کہا ہے کہ ثواب اس سے نہیں کہ آدمی اپنا نام لکھوا دے بلکہ یہ تو عذاب حاصل کرنے کا طریق ہے۔اس سے جتنا بوجھ سلسلہ پر پڑے گا اس کا عذاب انہی لوگوں پر ہو گا جو نام لکھوا دیتے ہیں مگر وعدہ پورا نہیں کرتے۔اس میں شک نہیں کہ ان کے وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے بدنامی ساری جماعت کی ا