خطبات محمود (جلد 21) — Page 229
خطبات محمود 229 * 1940 کے بادشاہ کو اتنی دور مروا دیا تو اس نے اُحد کے میدان میں کافروں کو آپ کو اس طرح پتھر کیوں مارنے دیئے ؟ تو یہ اعتراضات درست نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔یہ راز ہیں۔بعض مواقع پر وہ تھوڑی سی بات پر پکڑ لیتا ہے ، بعض دفعہ کسی مصلحت کے ماتحت ڈھیل دیتا ہے تا انسان کی بے بسی اور بے سروسامانی ظاہر ہو۔پس میں اگر کوئی دعویٰ کرتا ہوں تو اسی جگہ جب خدا تعالیٰ کہے ورنہ نہیں۔میں تو کمزور انسان ہوں یہ کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے لئے ایسی قدرت دکھائے جو اس کی طرح وسیع ہو بلکہ ایسی وسیع قدرتیں تو خدا تعالیٰ خود اپنے لئے بھی نہیں دکھاتا۔کیا دنیا میں خد اتعالیٰ کی توہین اور تحقیر کرنے والے نہیں؟ بعض لوگوں کو یونہی فالج ہو جاتا ہے مگر روس میں ایسے ڈرامے کئے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ایک مجسمہ بنا کر بٹھایا جاتا ہے اور ایک شخص لینن بن کر اس کے متعلق فیصلہ کرنے بیٹھتا ہے اور لوگ خدا تعالیٰ کے متعلق اس کے سامنے یہ باتیں پیش کرتے ہیں کہ یہ بڑی ظالم ہستی ہے اس نے دنیا پر کئی قسم کے عذاب نازل کئے ہیں، یہ قحط نازل کرتا ہے ، وبائیں بھیجتا ہے اور لینن فیصلہ کرتا ہے کہ اسے پھانسی دے دیا جائے اور پھر اس مجسمہ کو پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے خدا تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوتا لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے منہ سے کوئی چھوٹا سا جملہ بھی نکل جاتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔یہ مضمون بڑا وسیع ہے جس کا یہ خطبہ متحمل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم نے اسے کھول کر بیان کیا ہے۔پس میں اس نادان معترض سے کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ نہ کرو۔آپ اسی قسم کے نشان دکھانے آئے تھے اور ایسے بندے پیدا کرنا آپ کا ایک مقصد تھا جن کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بڑے بڑے انقلابات پیدا کر دے۔آپ نے فرمایا ہے کہ :۔چوپیش او بروی کار یک دعا باشد 16 مگر ان پر اس کا مطلب یہی ہے کہ جو کام ساری دنیا نہیں کر سکتی وہ ایک دعا سے ہو جاتا ہے مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کو ضرور قبول کر لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاحبزادہ مبارک احمد فوت ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہوئے۔آپ نے دعائیں بھی کیں مگر وہ فوت ہو گئے اور یہ بھی آپ کا ایک نشان ہے کیونکہ مرزا مبارک احمد صاحب