خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 230

$1940 230 خطبات محمود کے متعلق آپ نے قبل از وقت بتا دیا تھا اور جب کوئی بات قبل از وقت کہہ دی جاتی ہے تو وہ نشان بن جاتی ہے۔پس نہ تو یہ ہوتا ہے کہ ہر دعا قبول ہو جاتی ہے اور نہ ہر رڈ ہوتی ہے۔ہاں جو دعاوہ قبول کرنے کا فیصلہ کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے اسے کوئی رڈ نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے 17 بہر حال اللہ تعالیٰ کے جو فضل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئے ان کا جاری رہنا ضروری ہے۔پیغامیوں کا یہ حق تو ہے کہ کہہ دیں یہ تمہارے ذریعہ جاری نہیں ہو سکتے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ میرے مقابلہ پر اپنے امام یا لیڈر کو پیش کریں اور کہیں کہ اس کے ذریعہ ان فضلوں کا اظہار ہوتا ہے۔اور اگر واقعی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ آئندہ کے امور کے متعلق خبریں ظاہر کرے اور اس کی دعاؤں کو غیر معمولی طور پر سنے تو ہم مان لیں گے کہ ہم گو غلطی پر تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہے مگر یہ لوگ تو دروازہ ہی بند کرتے ہیں۔کیا عجیب بات ہے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق آنحضرت صلی الی یم آئے تو نبوت بند ہو گئی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تو دعا کی قبولیت کا دروازہ بند ہو گیا اور اب کوئی تیسر امامور آیا تو شاید ایمان بھی بند ہو جائے گا اور دنیا میں صرف کفر ہی کفررہ جائے گا۔خدا تعالیٰ کی مہر تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام سے ثابت ہے رحمت کے دروازے کھول دیتی ہے مگر مولوی محمد علی صاحب نے ایک ایسی مہر ایجاد کی ہے کہ ہر بھلائی اور خیر کا دروازہ بند کیا جا رہا ہے۔“ (الفضل 12 جولائی 1940ء) 1 الفضل 4 جون 1940ء 2 الفضل 6 اکتوبر 1939ء 3 سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب البراء بن مالك 4 النمل: 63 م الله سة