خطبات محمود (جلد 21) — Page 195
* 1940 195 خطبات محمود بحری بیڑہ اسے مل جائے اور اگر ایسا ہو جائے جیسا کہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لئے کوشش کی جائے گی تو اطالوی اور فرانسیسی بیٹا مل کر برطانوی بیڑے سے زیادہ طاقتور ہو جائے گا اور برطانیہ کے لئے اپنے جزائر کی حفاظت مشکل ہو جائے گی۔اس وقت تک تو برطانوی بیڑے کی طاقت اطالوی بیڑے سے بہت زیادہ ہے حتی کہ وزیر اعظم برطانیہ نے اطالوی بیڑے کو چیلنج دیا ہے کہ آکر مقابلہ کرے بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ ہم اسے رستہ دے دیتے ہیں وہ حملہ کر کے دیکھ لے۔لیکن اگر اس کے ساتھ فرانسیسی بیڑا بھی مل جائے تو اس کی طاقت بہت بڑھ جائے گی۔میر اشروع سے یہی خیال ہے کہ جرمنی کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ فرانسیسی بیڑالے اور اب یہ شبہ اور بھی قوی ہوتا جا رہا ہے۔جرمنی نے فرانس کے نمائندوں کو صلح کی شرائط بتادی ہیں مگر کہا یہ ہے کہ انہیں ابھی شائع نہ کیا جائے۔اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں شرائط کی اشاعت سے اسے اسی نقصان کا خطرہ ہے کہ ایسا نہ ہو فرانسیسی بحری بیڑے یا ہوائی بیڑے کے افسر اپنے ملک سے وفاداری کے لحاظ سے جہازوں کو تباہ کر دیں یا بر طانوی بیڑ اسے جا ملیں۔فرانس کے بہت سے فوجی افسر ابھی مقابلہ کی طرف متوجہ ہیں اور غیر ممالک میں فرانسیسیوں کی نو آبادیوں کے رہنے والے بھی جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے فرانسیسی گورنمنٹ کو تاریں دی ہیں کہ ہم اپنی ساری جائدادیں بیچ کر دے دینے کو تیار ہیں جنگ کو بند نہ کیا جائے اور ان حالات میں اگر یہ خبریں قبل از وقت نکل جائیں تو اس بات کا امکان ہے کہ فرانسیسی بحری افسر یا تو اپنے بیڑے کو تباہ کر دیں گے یا پھر انگریزوں سے جاملیں گے۔جرمنی کی اس کوشش کی کہ شرائط صلح کو مخفی رکھا جائے یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ فرانسیسی افسر جو صلح کے خلاف ہیں وہ اور انگریز کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔وہ خود فرانسیسی بحری اور ہوائی بیڑا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر یہ خبر شائع ہو جائے تو ایک طرف تو انگریز فرانسیسی افسروں کو اکسائیں گے کہ اس طرح تمہارا ملک ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جائے گا اور دوسری طرف کئی باغیرت فرانسیسی افسر یہ کوشش کریں گے کہ اپنے جہاز لے کر برطانوی بیڑے سے جاملیں یا پھر اپنے جہازوں کو تباہ کر دیں۔پس حالات ایسے ہیں کہ جرمنی کوشش کر رہا ہے کہ فرانس سے برطانیہ کے خلاف مدد حاصل کرے اور بظاہر اسے دو ہی فائدوں کی توقع