خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 188

$ 1940 188 خطبات محمود باقی سب فنا ہو جائیں گے۔احادیث سے بھی ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں بھی اس قسم کی پیشگوئیاں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا یہ آخری فتنہ نہایت ہی ہیبت ناک ہے۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اس قدر تباہی ہو گی کہ ایک ایک مرد کے مقابلہ میں چار چار عورتیں رہ جائیں گی اور دس دس آدمیوں میں سے سات سات مر جائیں گے اور دنیا میں اتنی لاشیں کھلی پڑی ہوں گی کہ ان کے تعفن کی وجہ سے وبائیں پھوٹ پڑیں گی کیونکہ مردوں کو اٹھانے اور ان کو دفن کرنے والے کوئی نہیں رہیں گے۔2 رسول کریم صلی اللہ ہم نے یہ باتیں جو بیان فرمائی ہیں ان کے پورا ہونے کے آثار اب ظاہر ہو رہے ہیں اور سخت قابلِ رحم حالت ہے ان ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کی جو روزانہ میدانِ جنگ میں زخمی ہوتے اور تباہ و برباد ہوتے جارہے ہیں۔پھر تعجب یہ کہ اس لڑائی کی وجہ کوئی اعلیٰ درجہ کے روحانی اصول نہیں جن کی خاطر اس قسم کی لڑائی کو جائز قرار دیا جا سکے۔وہ اس لئے نہیں لڑ رہے کہ خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم کریں، وہ اس لئے نہیں لڑ رہے کہ شرک اور کفر کو مٹادیں اور ایمان لوگوں کے دلوں میں قائم کر دیں، وہ اس لئے نہیں لڑرہے کہ دنیا کی روحانی یا اخلاقی ترقی میں جو روکیں حائل ہیں ان کو دور کر دیا جائے بلکہ محض دنیا کے لئے، کچھ تجارتی میدانوں کے لئے ، کچھ زمینوں اور کچھ ملکوں کے لئے یہ تمام لڑائی ہو رہی ہے۔اور اس آگ کے ارد گرد ایک بگولہ چکر لگا رہا ہے جو چاروں طرف کے لوگوں کو اپنے ساتھ لپیٹ کر اس آگ میں گرا رہا ہے اور حالات اس قسم کے ہیں کہ اس بگولے سے بچنا عقلی طور پر بالکل ناممکن ہے۔دونوں طرف سے ایسے رنگ میں باتیں پیش کی جاتی ہیں کہ ہر انسان اس بات پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جس خیال کی تائید میں پائے اس کی حمایت کے لئے کھڑا ہو جائے۔ایسے حالات میں یہ لڑائی جتنی بڑھے گی اتنی ہی زیادہ دنیا میں تباہی اور بربادی پھیلے گی۔پس اس تباہی و بربادی سے بچنے اور بنی نوع انسان پر رحم کرنے کے لئے ایک مومن کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گرے اور اسی کے سامنے اپنے دکھ کی فریاد کرے۔