خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 148

خطبات محمود 148 $1940 ترقی کی اور بھی تدبیریں ہیں جیسے اخلاق فاضلہ ہیں یا ایمان کامل کا حصول ہے۔چیزیں بھی قوم کی ہمت کو بڑھاتی ہیں مگر جب کوئی قوم پھیلتی ہے تو اس کے سارے افراد ایک جیسا ایمان نہیں رکھتے۔کچھ زیادہ ایمان والے ہوتے ہیں جو ہر وقت ایمان کی چار دیواری میں محفوظ ہوتے ہیں ان کو خواہ کوئی کتنا ہی کہے کہ جماعت ہلاک ہو گئی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان کے حوصلوں میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے مگر ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں وہ جب سنتے ہیں کہ جماعت مر گئی تو وہ خود بھی مرنے لگ جاتے ہیں۔اور بعض حالات میں اس کے مخالف نظریہ بھی درست ہوتا ہے۔ایک دفعہ قادیان میں مولوی عبد اللہ صاحب تیما پوری مدعی نبوت آئے اور انہوں نے مسجد میں ہی ڈیرہ لگا دیا اور زور شور سے لوگوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔ہمارے ایک دوست جوش میں آگئے اور انہوں نے پہلے تو ان سے بحث کی مگر آخر کہا کہ آؤ مجھ سے مباہلہ کر لو۔چنانچہ انہوں نے مباہلہ کر لیا مگر وہ دوست دل کے کمزور تھے ادھر انہوں نے مباہلہ کیا اور اُدھر ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ خبر نہیں اب کیا ہو جائے گا۔میں خود تو اس وقت موجود نہیں تھا مگر حضرت خلیفہ اول نے مجھے سنایا کہ فلاں شخص میرے پاس آیا اور وہ بڑا گھبرایا ہوا تھا۔میں نے اسے کہا کہ تم ضرور مر جاؤ گے۔جب تم مباہلہ کے بعد اتنے ڈر رہے ہو تو تمہاری تو اس ڈر سے ہی موت واقع ہو جائے گی تمہیں مباہلہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ مباہلہ تو اس شخص کو کرنا چاہئیے جس کا قلب مضبوط ہو۔تو بسا اوقات انسان اپنے خیال ہی کے اثر سے تباہ ہو جاتا ہے۔ہمارے پر انے اطباء لکھتے ہیں کسی شخص کو یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ نمک کا بن گیا ہے۔ایک دفعہ وہ پانی میں داخل ہوا تو پگھل گیا۔کسی انسان کا پانی میں داخل ہو کر پگھل جانا تو ایک خلاف عقل بات ہے مگر معلوم ہوتا ہے انہوں نے تمثیلی زبان میں واقعہ بیان کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس خیال سے کہ وہ پگھلا جا رہا ہے اس کی جان نکل گئی۔یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ جسے یہ وہم ہو جائے کہ وہ نمک کا بن گیا ہے وہ اگر پانی میں داخل ہو گا تو اس کا دل بیٹھ جائے گا اور وہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔موجودہ جنگ میں اسی پر و پیگینڈا یا قوت واہمہ کو انگیخت کرنے سے کام لیا جارہا ہے اور