خطبات محمود (جلد 21) — Page 113
خطبات محمود 113 $1940 لے آئیں۔چونکہ ان چیزوں کی تیاری میں ان کے چندہ کا بھی دخل ہے اور اگر وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے تو دنیا جان لے گی کہ انہوں نے جو جواب دیا ہے وہ غلط ہے اور انہیں اس بات کا قطعا کوئی حق حاصل نہیں تھا کہ وہ انجمن کی کسی چیز کو اس طرح لے جاتے اور اگر وہ اس بات کو جائز سمجھتے ہیں تو اس کا اعلان کر دیں۔میں ان لوگوں کی ایک لسٹ پیش کر دوں گا جو ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور کافی رقوم انہیں چندے میں دیتے رہے ہیں۔میں ان تمام کو ایک وفد کی صورت میں ان کے پاس بھیجنے کے لئے تیار ہوں۔وہ اپنی انجمن کے دروازے ان کے لئے کھول دیں تاکہ وہ جس چیز کو اپنے لئے ضروری سمجھیں اٹھا لیں کیونکہ ان کے چندہ میں وہ بھی حصہ دار رہ چکے ہیں لیکن اگر وہ اس بات کے لئے تیار نہیں تو پھر ان کا یہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ چونکہ ہمارے چندے بھی قادیان میں آتے تھے اس لئے ہم اپنے چندہ کے عوض ترجمہ قرآن اور دوسر اسامان لے آئے۔پھر میں کہتا ہوں ایک منٹ کے لئے اگر اس بات کو فرض بھی کر لیا جائے کہ اس سے سلسلہ کا ایک مال اپنے قبضہ میں کر لینا ان کے لئے جائز تھا تو سوال یہ ہے کہ یہ مال تو سلسلہ کا تھا مولوی محمد علی صاحب کو اس بات کی کس نے اجازت دی کہ وہ اس مال کو اپنی ذاتی جائیداد قرار دے لیں۔مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو شیخ رحمت اللہ صاحب دیا کرتے تھے مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب دیا کرتے تھے مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب دیا کرتے تھے۔ہم نے ان تمام باتوں کو تسلیم کر لیا مگر سوال یہ ہے کہ دنیا کا وہ کون سا قانون ہے جس کے مطابق قوم کے چندہ اور قوم کے روپیہ سے تیار ہونے والی چیز مولوی محمد علی صاحب کی ذاتی ملکیت بن جائے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص باغ سے انگور کا ٹوکرا اٹھا کر گھر کو لئے جارہا تھا کہ باغ کے مالک کی اس پر نظر پڑ گئی اور اس نے پوچھا کہ تم میرے باغ سے انگور توڑ کر اور ٹوکرے میں بھر کر کس کی اجازت سے