خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 112

$1940 112 خطبات محمود اس کی شکل پھرتی رہتی تھی۔اس کے بعد پانچ سات سال کا عرصہ اور گذر گیا اور اس عورت نے پھر تھوڑا بہت جمع کر کر کے سونے کے کنگن بنوا لئے۔ایک دن وہ اسی طرح چرخہ کات رہی تھی کہ اس نے پھر اسی چور کو کہیں پاس سے گذرتے دیکھا اس نے ایک لنگوٹی باندھی ہوئی تھی اور کسی کام کے لئے جارہا تھا۔عورت نے جو نہی اسے دیکھا آواز دے کر اسے کہنے لگی بھائی ذرا بات سن جانا۔اس نے خیال کیا کہ کہیں یہ مجھے پولیس کے سپر دنہ کرا دے اس لئے اس نے تیز تیز قدم اٹھا کر وہاں سے غائب ہو جانا چاہا۔اس پر اس عورت نے پھر اسے آواز دی اور کہا بھائی میں کسی سے نہیں کہتی تم میری ایک بات سن جاؤ۔چنانچہ وہ شخص آ گیا عورت اپنا ہاتھ نکال کر اسے کہنے لگی دیکھ لو ان ہاتھوں میں تو پھر سونے کے کنگن پڑ گئے ہیں اور تمہارے جسم پر کنگن چرا کر بھی لنگوٹی کی لنگوٹی ہی رہی۔تو میں نے کہا قاضی صاحب آپ گھبر ائیں نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے اور بہت کچھ دے گا لیکن آپ سمجھ لیں کہ ہم کتنے خطرناک الزام کے نیچے آسکتے ہیں۔اگر ہم انہیں یہ سامان لے جانے سے روک دیں کل کو لوگوں میں یہ کہتے پھریں گے کہ صرف دو مہینے کے لئے ترجمہ قرآن کرنے کی خاطر میں یہ کتابیں اور سامان اپنے ساتھ لے چلا تھا مگر ان لوگوں نے دو مہینہ کے لئے بھی یہ چیزیں نہ دیں اور اس طرح ترجمہ قرآن میں انہوں نے روک ڈالی۔پس اگر ہم یہ سامان لے جانے سے انہیں روکیں گے تو ساری عمر کے لئے ہماری پیشانی پر داغ لگ جائے گا۔اور اگر مولوی صاحب ان چیزوں کو واپس نہیں کریں گے تو وہ الزام کے نیچے آجائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اور سامان دے دے گا۔تو قاضی صاحب کو اس موقع پر بڑا طیش آیا مگر میں نے انہیں سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا لیکن بات ان کی ٹھیک نکلی کہ وہ کئی ہزار روپیہ کا سامان ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے۔پس اگر یہ اصول درست ہے کہ چونکہ چندہ میں ان کا بھی حصہ تھا اس لئے انہیں اس بات کا حق حاصل تھا کہ وہ ترجمہ قرآن اور دوسر ا سامان اپنے ساتھ لے جاتے تو پھر وہ اس بات کی ہمیں بھی اجازت دے دیں تا ہماری جماعت کے وہ دوست جو ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور جو انہیں ایک لمبے عرصہ تک چندے دیتے رہے ہیں وہ ان کی انجمن کی چیزیں اٹھا اٹھا کر