خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 108

1940 108 خطبات محمود ایسا حکم الوصیت میں موجود ہے ایسی صورت میں ہم ان سے کہہ سکتے ہیں کہ جب الوصیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نظام خلافت کی تائید کی ہے تو تم اس نظام کے کیوں مخالف ہو اور یا پھر یہ کہیں گے کہ ہم نے اس وقت گھبر اکر اور دشمنوں کے حملہ سے ڈر کر حضرت خلیفہ اول کی بیعت کر لی تھی۔ہمیں معلوم تو یہی تھا کہ صدر انجمن خلیفہ ہے اور ہمیں یقین اسی بات کا تھا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہی ہے مگر ہم نے سمجھا دشمن اس وقت زور میں ہے اور وہ احمدیت پر تیر چلا رہا ہے بہتر یہی ہے کہ ان تیروں کے آگے حضرت مولوی صاحب کو کھڑا کر دیا جائے چنانچہ وہ کھڑے ہو گئے اور جب ہم نے دیکھا کہ امن قائم ہو گیا ہے تو ہم اپنا حصہ لینے کے لئے آگئے جیسے قرآن کریم میں بعض لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ جب انہیں جہاد میں شامل ہونے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہو جاتی ہے اور وہ مال غنیمت لے کر میدان جنگ سے واپس لوٹتے ہیں تو وہ بھی دوڑ کر ان کے ساتھ آملتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھی ہیں۔ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملنا چاہئے۔بہر حال کوئی صورت ہو تو ہر حال میں ان کو شکست ہی شکست ہے۔اگر الوصیت میں خلافت کے متعلق کوئی حکم پایا جاتا ہے اور جیسا کہ ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے اعلان کیا کہ پایا جاتا ہے تو پھر اس حکم سے ان کا انحراف ان پر حجت قائم کرنے کے لئے کافی ہے اور اگر کوئی حکم نہ پائے جانے کے باوجود انہوں نے حضرت خلیفہ اول کو آگے کر دیا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب حملے کا وقت تھا اس وقت تو یہ پیچھے بیٹھے رہے مگر جب حملے کا وقت گزر گیا اور امن قائم ہو گیا تو اس وقت یہ لوگ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملنا چاہیئے حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی کو عزت دیتا ہے جو قربانیوں کے میدان میں بھی آگے سے آگے قدم بڑھاتا ہے مگر ان لوگوں نے قربانیوں میں تو کوئی حصہ نہ لیا اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عزت کے حصے بخرے کرنے میں مشغول ہو گئے۔یہ سوال ہے جو بار بار ان لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ بتائیں الوصیت میں وہ کون سے الفاظ ہیں جن کے مطابق حضرت خلیفہ اول کو خلیفہ منتخب کر کے ان کی بیعت کی گئی تھی اور جس کے ماتحت حضرت خلیفہ اول کی اطاعت ویسی ہی ضروری تھی جیسے۔