خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 91

خطبات محمود ۹۱ سال ۱۹۳۹ء اشارہ کر کے کہا یہ میرے ضامن ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ ضمانت دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔اب ایک قاتل کی ضمانت دینے کے معنے یہ تھے کہ اگر وہ مقررہ وقت پر نہ پہنچے تو مجھے مار ڈالنا۔اُن کی ضمانت پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ چلا گیا۔جب وہ دن آیا جو اُس کی سزا کے لئے مقرر تھا تو لوگ اُس بدوی کا انتظار کرنے لگے کہ کب آتا ہے مگر وقت گزرتا جائے اور اُس کی آمد کا کوئی پتہ نہ لگے۔آخر اس صحابی کے دوستوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور اُنہوں نے اُس سے وچھا کہ آپ جانتے بھی ہیں وہ ہے کون؟ اُنہوں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں وہ کون تھا۔وہ کہنے لگے تو پھر آپ نے ضمانت کیوں دی ؟ انہوں نے کہا اُس نے جو مجھ پر اعتبار کیا تھا تو میں اُس پر کیوں اعتبار نہ کرتا۔خیر اُن کے دوستوں کے دلوں میں بڑی بے چینی پیدا ہو گئی کہ نہ معلوم اب کیا ہو گا۔مگر جب عین وہ وقت پہنچا جو اُس کی سزا کے لئے مقرر تھا تو لوگوں نے دیکھا کہ دُور سے ایک غبار اڑتا چلا آ رہا ہے سب لوگوں کی آنکھیں اُس طرف لگ گئیں۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اُنہوں نے دیکھا ایک سوار نہایت تیزی سے گھوڑا دوڑا تا چلا آ رہا ہے۔یہاں تک کہ گھوڑے کا پیٹ زمین سے لگ رہا ہے۔جب وہ قریب پہنچا تو ادھر وہ گھوڑے سے اُترا اور اِدھر اس گھوڑے نے دم دے دیا اور مر گیا۔یہ سوار وہی شخص تھا جس کی اس صحابی نے ضمانت دی تھی۔وہ کہنے لگا میرے پاس امانتیں کچھ زیادہ تھیں اُن کو واپس کرنے میں مجھے دیر ہو گئی اور میں اپنے گھوڑے کو مارتا اور اُسے نہایت تیزی سے دوڑاتا ہوا یہاں پہنچا تا کہ میرے ضامن کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ہے تو دیانت ایسی چیز ہے کہ باوجود اس کے ان واقعات پر سینکڑوں سال گزر گئے آج بھی ہم ان واقعات کو پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس گناہ سے بھری ہوئی دُنیا میں نہیں کی بلکہ ایک ایسی جنت میں ہیں جو خوبیاں ہی خوبیاں اپنے اندر رکھتی ہے۔حالانکہ یہ انفرادی کی واقعات ہیں کروڑوں اور اربوں میں سے کسی ایک انسان کا واقعہ ہے مگر یہ ایک واقعہ بھی انسانیت کو اتنا خوبصورت کر کے دکھا دیتا ہے کہ دُنیا کے سارے گناہ نگاہوں سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔اسی طرح تجارتی دیانت کی بھی ہمارے آباء میں مثالیں پائی جاتی ہیں چنانچہ