خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 68

خطبات محمود ۶۸ سال ۱۹۳۹ء کئی ایسے مسلمان ملیں گے جو کہہ دیں گے کہ جاؤ میں روزہ نہیں رکھتا، میں نماز نہیں پڑھتا مگر ایسا کوئی تی جو اپنے آپ کو مسلمان بھی سمجھتا ہو نہیں ملے گا جو کہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا۔اس لئے کہ نماز اور روزہ کی تعلیم بار بار اس کے سامنے دہرائی نہیں گئی مگر لَا إِلهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔پس خدام الاحمدیہ انفرادی رُوح کی ملی روح پر قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال کریں اور اس کے لئے کوئی موزوں فقرہ بھی بنایا جائے جو کام شروع کرتے وقت بھی اور ختم کرتے وقت بھی دُہرایا جائے اور نعرے بھی لگائے جائیں لیکن ایک بات کا خیال رکھا جائے کہ قومی روح توحید باری کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لئے ایسے فقرہ میں توحید کا اقرار بھی ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا بھی اور پھر وہ چھوٹا بھی ہو اور ہر موقع پر اُسے بار بار دہرانے کا انتظام بھی کیا جائے۔پھر جب بھی کوئی جماعتی تحریک ہو وہ اپنے نو جوانوں کا جائزہ لیتے رہیں کہ اس میں اُنہوں نے کیا حصہ لیا ہے۔سب اپنے اپنے ہاں کام کریں مگر ان سب سے رپورٹ لی جائے کہ کیا کیا ہے؟ اس طرح بھی کام کرنے کی ایک رو پیدا ہوتی ہے اور پہلے جو غفلت کر رہے ہوتے ہیں اُن کو بھی توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔دوسری بات جو اُنہیں اپنے پروگرام میں شامل کرنی چاہئے وہ اسلامی تعلیم سے واقفیت پیدا کرنا ہے۔یہ ایک مذہبی انجمن ہے سیاسی نہیں اور اس لئے اصل پروگرام یہی ہے باقی چیزیں تو ہم حالات اور ضروریات کے مطابق لے لیتے یا ملتوی کر دیتے ہیں لیکن ہمارا اصل پروگرام تو وہی ہے جو قرآن کریم میں ہے۔لجنہ اماءاللہ ہوں، مجلس انصار ہو، خدام الاحمد یہ ہو، نیشنل لیگ ہے غرض کہ ہماری کوئی انجمن ہو اس کا پروگرام قرآن کریم ہی ہے اور جب ہر ایک احمدی یہی سمجھتا ہے کہ قرآن کریم میں سب ہدایات دے دی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مُضر نہیں تو اس کی کے سوا اور کوئی پروگرام ہو ہی کیا سکتا ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ اصل پرگرام تو وہی ہے۔اس میں سے حالات اور اپنی ضروریات کے مطابق بعض چیزوں پر زور دے دیا جاتا ہے لیکن جب روزے رکھے جا رہے ہوں تو اُس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ حج منسوخ ہو گیا بلکہ چونکہ وہ دن روزوں کے ہوتے ہیں اس لئے روزے رکھے جاتے ہیں۔جب ہم کوئی پروگرام تجویز کرتے ہیں