خطبات محمود (جلد 20) — Page 604
خطبات محمود ۶۰۴ سال ۱۹۳۹ء کہ کوئی ایسا مقام بھی ہو جو آپ کو حاصل نہ ہو۔اس لئے آپ کو ترقیات کا اگلا مقام بخش۔غوری کرو اس سے کتنا غیر متناہی ترقیات کا رستہ کھل جاتا ہے۔مجھے اس وقت حدیث کے لفظ اچھی کی طرح یاد تو نہیں مگر مجھ پر یہ اثر ہے کہ ایک حدیث میں بھی اسی قسم کا مضمون آتا ہے کہ مومنوں کو جنت میں بالا مدارج ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آئیں گے اور جب وہ ان کی طرف توجہ کریں گے اور خدا تعالیٰ ان تک ان کو پہنچا دے گا تو پھر اس سے اوپر کے نظر آنے لگیں گے سے کی اس حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں غیر محدود ہیں اور یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب راہیں طے کر لی ہیں۔آپ کی عزت نہیں بلکہ ہتک ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی راہیں تو غیر محدود ہیں اگر ہم کہیں گے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ حاصل کر چکے تو اس کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ آپ کی ترقی رُک گئی ہے اور اس کی عقیدہ میں آپ کی عزت نہیں بلکہ ہتک ہے۔ہماری اس کوشش کی مثال وہی ہوگی جو کہتے ہیں کہ کسی ریلوے اسٹیشن پر کوئی فقیر بھیک مانگ رہا تھا۔گاڑی میں ایک ڈپٹی صاحب بیٹھے تھے۔کسی نے اسے کہا کہ یہ ڈپٹی ہیں ان سے مانگو۔ڈپٹی صاحب نے اس کی امید اور توقع سے بہت زیادہ پیسے اسے دے دیئے۔اس پر وہ بہت خوش ہوا اور کہنے لگا ”خدا تینوں تھانیدار کرے، یعنی خدا تعالیٰ تم کو تھانیدار بنادے۔حالانکہ یہ کوئی دُعا نہیں بلکہ اس کے لئے بددعا تھی کیونکہ اس کے ما تحت تو کئی تھانیدار تھے۔پس یہ کوئی اعزاز کی بات نہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی بات منسوب کریں جو آپ کو ترقیات سے محروم کر دے۔خدا تعالیٰ نے یہ رستہ کھلا رکھا ہے کہ ساری اُمت آپ کی ترقیات کے لئے دُعائیں کرتی رہے کہ یا خدا! ہمارے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اور بلند درجات عطا فرما اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آپ کو تمام مدارج مل چکے ہیں تو یہ دُعائیں بھی بند ہو جائیں گی کروڑوں مسلمان دُعا کرنا بند کر دیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کو پورا کرنے سے رُک جائیں گے اور دُعا کرنے والا خواہ کتنا حقیر بندہ کیوں نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی دُعا سنتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ حضرت موسیٰ “ حضرت عیسیٰ “ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فضل کئے ہیں مگر ایک حقیر بندہ بھی