خطبات محمود (جلد 20) — Page 605
خطبات محمود ۶۰۵ سال ۱۹۳۹ء ایسا نہیں کہ وہ اپنے خدا کے حضور کھڑا ہو اور یہ سب مل کر بھی اس کے درمیان آسکیں۔چاہے کی کوئی کتنا کمزور انسان ہو جب وہ درد اور سوز کے ساتھ دُعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے ہر گز ضائع نہیں کرے گا اور اگر یہ دُعائیں بند ہو جائیں تو اس طرح وہ تحائف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچتے ہیں بند ہو جائیں گے کیونکہ جب یہ یقین ہو جائے کہ اور مقام کوئی باقی نہیں تو پھر دُعا کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوگی بلکہ درود بھی چھوڑنا پڑے گا کیونکہ یہ بھی تو بلندی درجات کی پر ہی دلالت کرتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمّدٍ وَّ بَارِكْ وَسَلَّم کے معنے یہ نہیں کہ آپ کو روٹی اور کباب ملیں بلکہ اس سے روحانی برکات ہی مُراد ہیں اور اسی کا نام کمال ہے۔تو ایسا عقیدہ رکھنے سے درود شریف کو بھی چھوڑنا پڑے گا اور جب کسی مسلمان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحائف نہ پہنچیں گے تو وہ بھی آپ کی دُعا سے محروم ہو جائے گا۔قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ جب کسی مسلمان کو کوئی تحفہ دیا جائے تو وہ اس سے اچھا نہیں تو ی ویسا ہی تحفہ دے اور جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ اسے آپ کے پاس پہنچا تا ہے تو آپ دُعا کرتے ہوں گے کہ خدایا! اس بندے کو بھی وسیلہ اور فضلیت عطا فرما۔اسی طرح جب درود آپ کی خدمت میں پیش ہوتا ہوگا تو آپ دُعا فرماتے ہوں کے کہ خدایا! اس شخص کے گھر کو بھی برکت سے بھر دے اور ان دُعاؤں کے طفیل انسان ہزاروں آفات سے محفوظ رہتا ہے لیکن جب یہ یقین ہو کہ آپ کے درجات میں ترقی ممکن نہیں تو ہر معقول آدمی دُعا کرنی اور درود پڑھنا چھوڑ دے گا اور اس طرح تمام ان برکتوں سے محروم ہو جائے گا جو آپ کے ذریعہ اسے ملتی تھیں۔پس یہ عقیدہ بالکل غلط ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جتنے کمالات سب انبیاء اور بزرگوں کو ملے ہیں یا بعد میں آنے والوں کو ملیں گے وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہیں اور اگر ان معنوں میں کہا جائے کہ آپ کو تمام کمالات حاصل ہیں تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن اگر یہ مطلب ہو کہ اب خدا تعالیٰ کے پاس بھی دینے کے لئے کچھ نہیں رہا تو یہ صیح نہیں اور ہر سُننے والا سُن لے کہ خواہ وہ اس میں بہتک سمجھے یا کچھ اور ، حقیقت یہی ہے کہ ہمارے خدا کے پاس نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کے لئے بھی بہت کچھ ہے۔اس کے