خطبات محمود (جلد 20) — Page 587
خطبات محمود ۵۸۷ سال ۱۹۳۹ء تحریک کی اسی دوران میں جب آپ نے اُس شخص کو آتے دیکھا تو فرمایا کی سنتیں پڑھ لی ہیں۔اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں تو ابھی آ رہا ہوں۔آپ نے فرمایا سنتیں پڑھو اور پھر بیٹھو۔چنانچہ وہ سنتیں پڑھ کر بیٹھ گیا۔جب آپ کی تقریر کے بعد چندہ جمع کرنے کا وقت آیا تو وہی شخص آگے بڑھا اور اُس نے ان دو چادروں میں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی اُسے بطور صدقہ دی تھیں ایک چادر اُتار کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ !یہ میری طرف سے چندہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دیکھ کر ہنس پڑے اور آپ نے فرمایا یہ ہم نے تم کو اپنا جسم ڈھانکنے کے لئے دی تھی تم پھر واپس کر رہے ہو۔اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں ثواب میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا کی ثواب تمہیں مل جائے گا یہ چادر اٹھاؤ اور اپنے پاس رکھو۔2 دیکھو یہ کس قدر دل پر اثر کرنے والا واقعہ ہے کہ ایک شخص کو ایک مجلس میں صدقہ کے طور پر کپڑا ملتا ہے اور وہ اسی کپڑے کو اسی مجلس میں دوسرے موقع پر اپنی طرف سے بطور صدقہ پیش کر دیتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتا ہے کہ یا رسول اللہ ! یہ میری طرف سے چندہ ہے۔تو صحابہ کے دلوں میں اس بات کی بڑی اہمیت تھی کہ ضرور ہر نیک تحریک میں حصہ لینا ہے۔ہماری جماعت کو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی قسم کی تربیت ہے اور اس میں کوئی طبہ نہیں کہ اس وقت دنیا کے پردے پر اور کوئی جماعت ایسی نہیں جو مالی لحاظ سے ویسی قربانی کر رہی ہو جیسی قر بانی ہماری جماعت کر رہی ہے۔ہم کتنا ہی زجر کریں، کتنا ہی بعض لوگوں کا شکوہ کریں اس سچائی کا انکار سوائے اندھے اور از لی شقی کے اور کوئی نہیں کر سکتا کہ اس زمانہ میں اس غریب جماعت سے زیادہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانیاں کرنے والا کوئی نہیں۔ہم میں ہزاروں کمزوریاں ہیں، ہم میں ہزاروں عیب ہیں، ہم میں ہزاروں نقائص ہیں مگر با وجود ان نقائص کو تسلیم کرنے کے اِس میں کوئی کلام نہیں کہ دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ایسی بے نظیر قربانیاں پائی جاتی ہیں کہ قریب زمانہ میں ان کی کوئی نظیر نظر نہیں آتی اور دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے مگر پھر بھی اس فخر اور خوشی کی تکمیل کے جتنے مدارج ہوں ان کے حصول کے لئے کوشش کرنا ہمارا فرض ہے