خطبات محمود (جلد 20) — Page 554
خطبات محمود ۵۵۴ سال ۱۹۳۹ء۔شروع کر دیا کہ ہمارا حقہ پانی بند کر دیا گیا۔یہ بند کر دیا گیا وہ بند کر دیا گیا۔( حقہ پانی کا لفظ میں نے پنجابی محاورہ کے مطابق استعمال کیا ہے ورنہ ان میں حقہ پینے والا میرے علم میں کوئی نہیں ) غرض اس رنگ میں اُنہوں نے اپنی مظلومیت کا رونا رویا حالانکہ ہم نے حکم دیا ہوا تھا کہ جو ضروریات زندگی غیروں سے نہیں مل سکتیں وہ احمدی دکاندار انہیں ضرور دے دیا کریں مگر بہر حال وہ یہ شور مچاتے رہے کہ ہم مارے گئے ، ہمیں کھانے کو کچھ نہیں ملتا ، ہمیں پینے کو کچھ نہیں ملتا دکانداروں کو منع کر دیا گیا ہے کہ وہ ہمارے ہاتھ کوئی چیز فروخت نہ کریں۔حالانکہ جو واقع میں کی تکلیف زدہ ہو اور جسے حقیقت میں ان چیزوں کی ضرورت ہو وہ پہلے اپنی روٹی کا فکر کیا کرتا ہے۔یہ نہیں کرتا کہ روٹی کا تو فکر نہ کرے اور شور مچانا شروع کر دے کہ میں مارا گیا۔اگر انہیں دودھ نہیں ملتا تھا تو وہ پہلا کام یہ کرتے کہ کسی سے دودھ لیتے اور اپنی ضرورت کو پورا کرتے مگر وہ دودھ اور روٹی تو نہ لیتے بلکہ محض یہ شور مچاتے رہتے کہ ہم مارے گئے ہم مارے گئے۔تو کی پرو پیگنڈا اس زمانہ کی تمام حیات کا روح رواں ہو گیا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اسلام کی طرف سے بھی پرو پیگنڈے کا مقابلہ پرو پیگنڈا سے کیا جائے اور سچائی سے جھوٹ کو مٹایا جائے۔در حقیقت اس زمانہ میں جھوٹ کی اتنی کثرت ہو گئی ہے اور دھوکا اور فریب اس قدر عام ہو گیا ہے کہ جب تمہارا ایک قریب ترین دوست بھی تم سے کوئی بات کر رہا ہو تو تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ مجھ سے فریب تو نہیں کر رہا۔پس جھوٹ اور فریب کی کثرت کی وجہ سے جھوٹ کی ہیبت اور اس کی اہمیت لوگوں کے قلوب سے نکل گئی ہے اور جب کوئی شخص کی جھوٹ بولتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں نے کوئی بُرا کام نہیں کیا۔ساری دُنیا ہی ایسا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے دوسروں کے عیوب کی تشہیر کرنے سے بنی نوع انسان کو روکا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے اگر تم ایسا کرو گے تو رفتہ رفتہ لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ ساری دُنیا ہی عیوب میں مبتلا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جُرموں کا رُعب جو انسانی قلوب میں ہوتا ہے وہ جاتا رہے گا مگر نادان خدا تعالیٰ کی وسیع حکمتوں کو نہیں سمجھتے اور اپنی معمولی معمولی ضرورتوں اور خواہشوں کو خدا تعالیٰ کے احکام پر مقدم کر لیتے ہیں۔تو اسلام اس وقت ایک وسیع خطرہ میں گھرا ہوا ہے۔اس زمانہ میں جھوٹ کا پروپیگنڈا