خطبات محمود (جلد 20) — Page 517
خطبات محمود ۵۱۷ سال ۱۹۳۹ء کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم پانچ وقت نمازیں پڑھا کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا اچھا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ کہا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں سے ہر سال زکوۃ نکالا کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔وہ کہنے لگا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم ہر سال ایک مہینہ کے روزے رکھا کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔پھر اُس نے کہا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ کہا ہے کہ ہم استطاعت پر حج کیا کریں؟ آپ نے فرمایا کی ہاں۔اس پر اُس نے کہا میں بھی اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں یہ تمام حکم بجالا ؤں گا اور ان میں نہ کچھ کمی کروں گا اور نہ ان میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا لیے بیشک یہ ایک بدوی کا قول ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق فرما دی اور فرمایا اگر اس نے اپنی اس بات کو پورا کر دیا تو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کا مستحق ہو جائے گا۔پس اس میں کوئی محبہ نہیں کہ کی اگر کوئی شخص فرائض کو پوری طرح ادا کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعامات کا مستحق ہو جاتا ہے مگر یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ فرائض کی کامل ادا ئیگی نوافل کے بغیر ناممکن ہے۔ایک شخص زکوۃ دیتا ہے اور اپنی طرف سے پوری احتیاط کے ساتھ دیتا ہے مگر بسا اوقات کی اس کے اندازے میں غلطی ہو جاتی ہے اور اس نسبت سے وہ زکوۃ ادا نہیں ہوتی جس نسبت سے زکوۃ کا ادا ہونا ضروری ہوتا ہے۔تو جو شخص اپنی طرف سے زکوۃ دینے کی پوری کوشش کرتا ہے اُس کے متعلق بھی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ اس کے اندازے میں غلطی رہ جائے اور قیامت کے دن اسے معلوم ہو کہ فرض زکوۃ جو اس پر عائد تھی۔اس کی ادائیگی پورے طور پر نہیں ہوئی کی بلکہ اس میں کمی رہ گئی ہے یا ایک شخص صرف فرض نماز ادا کرتا ہے۔اب فرض نماز میں بھی صرف یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو یا تین یا چار رکعات جو مقرر ہیں وہ ادا ہو جائیں بلکہ رکعات کے ساتھ خلوص اور محبت اور خشیت الہی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ چیزیں بھی کی فرض نماز کا حصہ ہیں، اس سے علیحدہ نہیں۔اب فرض کر و ا یک شخص چار رکعت فرض نماز ادا کر دیتا ہے مگر اس کے خلوص اور اس کی توجہ میں کمی رہ جاتی ہے تو گو وہ یہی سمجھے گا کہ میں نے فرض نماز