خطبات محمود (جلد 20) — Page 507
خطبات محمود ۵۰۷ سال ۱۹۳۹ء بعض مومن جب اپنے اندر اضطراب دیکھتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ شاید ہمیں ایمان نصیب کی نہیں حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اضطراب ان مدارج کے لئے ہوتا ہے جو میسر نہ ہوں یا اونچے درجوں کے لئے ہوتا ہے۔جو مقام مومن کو حاصل ہوتا ہے اس سے اگلے کے لئے اس میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔جنت میں بھی مختلف مقام یوں نظر آئیں گے جیسے ستارے زمین سے نظر آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں اتنی غیر محدود ہیں کہ انہیں گلی طور پر طے کرنے کا خیال کرنا بھی کفر ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سب طے نہیں کیں۔بے شک اپنے مقام کی سب کیں اور آپ سب سے آگے ہیں مگر یہ کہ خدا تعالیٰ کا احاطہ کر لیا ہو یہ غلط ہے۔ولا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّن عِلمه إلا بما شاء 2 کوئی بندہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ جتنا وہ خود دکھائے۔باقی پھر غیر محدود رہتا ہے اور اس کے حصول کی خواہش مومن کے دل میں پیدا ہونی ضروری ہے اور اسی کے لئے کوشش کرنی چاہئے مگر ہزاروں ہیں جو دُعائیں بھی کرتے ہیں دوسروں کو بھی دُعاؤں کے لئے رقعے لکھتے ہیں مگر یہ خواہش اور کی اضطراب ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔مجھے تو بعض دفعہ ہنسی آتی ہے۔بعض واقفین تحریک جدید مجھے رقعے لکھتے ہیں کہ کوٹ نہیں یا فلاں چیز نہیں۔حالانکہ وقف کرنے کے معنے تو یہ ہیں کہ آدمی کھڑا ہو گیا اب اس نے ہلنا نہیں اس کی زبان بند ہے۔مگر یہ عجیب وقف ہے کہ تھوڑے دنوں کی کے بعد لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں چیز نہیں۔میں دے تو دیتا ہوں مگر سوچتا ہوں کہ جسے کھانے پینے کے لئے میری مدد کی ضرورت ہے اُسے خدا تعالیٰ سے کیا تعلق ہے؟ واقفین کو ہم جو کچھ دیتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔کیونکہ ان کی طلب کے بغیر ملتا ہے مگر یہ کہ اپنی خواہش ہو کہ مل جائے یہ خدا تعالیٰ پر توکل کے منافی ہے۔تو کل کی مثال تو یہ ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح اول ایک مرتبہ مطب میں بیٹھے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی میں تھے وہاں حضرت میر صاحب سخت بیمار ہو گئے۔قولنج کا اتنا سخت حملہ ہوا کہ ڈاکٹروں نے کہا آپریشن ہونا چاہئے۔بعض لوگوں نے کہا کہ بعض یونانی دواؤں سے بغیر آپریشن کے بھی آرام ہو جاتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت خلیفہ اول کو تار دے دیا کہ جس حالت میں بھی ہوں آجائیں۔