خطبات محمود (جلد 20) — Page 506
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء اسی درخت کے نیچے پہنچا دے گا۔آخر جب وہ اُس درخت کے نیچے کچھ عرصہ راحت حاصل کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ امتحان کے لئے اُس سے بہتر درخت اُس سے کچھ فاصلہ پر ظاہر کرے گا اور وہ پھر لالچ کرے گا کہ اس کے نیچے بیٹھے۔کچھ مدت تک تو وہ اپنے نفس کی اس خواہش کو برداشت کرے گا اور کہے گا کہ میں اب اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کس طرح کروں لیکن آخر درخواست کر ہی دے گا اور کہے گا کہ آئندہ اور کچھ نہ مانگوں گا تب خدا تعالیٰ اُسے وہاں رہنے دے گا اور پھر وہ دور سے جنت کا دروازہ دیکھے گا اور آخر اُس سے باہر رہنا برداشت نہیں کر سکے گا اور خدا تعالیٰ سے کہے گا کہ مجھے اس جنت کے دروازے کے آگے تو بٹھا دے میں اندر جانے کی درخواست نہیں کرتا۔صرف باہر بٹھا دے۔وہیں سے لطف حاصل کروں گا۔اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا اس کے بعد تو کچھ نہیں مانگے گا؟ بندہ کہے گا نہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ اُسے جنت کے دروازہ پر بٹھا دے گا لیکن بھلا وہاں اُسے کس طرح چین حاصل ہو سکے گا۔آخر وہ بیتاب ہو کر کہے گا کہ یا اللہ مجھے دروازہ کے اندر کی طرف بٹھا دے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ مجھے جنت کی نعماء دے لیکن یہ کہتا ہوں کہ دروازہ کے اندر بٹھا دے۔اس پر اللہ تعالیٰ ہنسے گا اور کہے گا کہ میرے بندے کی حرص کہیں ختم نہیں ہوتی۔جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ اور جہاں چاہور ہو۔یہی نظاره خدا تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ پہلے ایک ہلکی سی تجلتی دکھاتا ہے اور اسے دیکھ کر جب ملائکہ صفت انسان بے تاب ہو جاتا ہے اور دُعائیں کرتا ہے کہ کامل تجاتی دکھا تو پھر اللہ تعالیٰ اُسے کامل تجلی دکھاتا ہے اس کے بعد دوسرے مقام کی ہلکی سی تجلتی دکھاتا ہے اور بندے کے دل میں اس کے حصول کی خواہش پیدا کر دیتا ہے۔جب بندہ اس کے لئے دُعاؤں میں لگ جاتا ہے تو اُسے اس مقام کی کامل تحتی دکھا دی جاتی ہے۔اس کے بعد اگلے مقام کے متعلق پہلے کی طرح شوق پیدا کیا جاتا ہے اور آخر وہ مقام بھی بندہ کو مل جاتا ہے اس نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو مومن کا دل کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا ہمیشہ مضطرب ہی رہتا ہے۔دُنیوی انسان کا دل بھی کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور مومن کا بھی۔فرق صرف اتنا ہے کہ ایک خدا تعالیٰ کے لئے مضطرب ہوتا ہے اور دوسرا دُنیا کے لئے لیکن اضطراب ہوتا دونوں میں ہے اور دُنیا کا گزارہ ہی اضطراب سے ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا اضطراب دُنیا کے لئے ہوتا ہے اور کسی کا خُدا کے لئے۔