خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 46

خطبات محمود ۴۶ سال ۱۹۳۹ء کہ وہ رو پیر یو یو آف ریلیجنز پر خرچ ہوتا ہے یا کسی غریب شخص پر خرچ ہوتا ہے۔اگر اسلام کا فائدہ اس میں ہے کہ سلسلہ کا روپیہ ایک غریب کو مل جائے تو اس میں مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ میری غرض تو اس قسم کی نصائح سے یہ ہے کہ ہماری جماعت کے اخلاق بلند ہو جائیں اور اس میں عزت نفس کا مادہ پیدا ہو جائے اور لوگ یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفس کو بھی کوئی شرف بخشا ہوا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہوئے بلا وجہ اس کی تحقیر نہ کریں۔یہ رُوح ہے جو میں جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہوں اور یہی وہ تعلیم ہے جو کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔پس یہ روپیہ مجھے تو نہیں ملتا کہ مجھے یہ فکر ہو کہ فلاں کو نہ ملے اور فلاں کومل جائے۔اگر یہ روپیہ مجھے ملتا تو کسی کو بدظنی کا موقع مل سکتا تھا اور وہ خیال کر سکتا تھا کہ شاید میں نے اپنے ذاتی فائدہ کے لئے دوسروں کو اس سے محروم کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔مگر جب یہ روپیہ میرے پاس نہیں آتا نہ میری ضروریات پر خرچ ہوتا ہے تو مجھے اس میں ذاتی دلچسپی کیا ہوسکتی ہے؟ پس مجھے ذاتی دلچسپی اس میں کوئی نہیں ہاں اتنی دلچپسی ضرور ہے کہ میں چاہتا ہوں جماعت کے اخلاق بہت بلند ہوں اور وہ دوسروں سے مانگنے کی عادت ترک کر دیں۔پس پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ مسائل واضح کرتے رہا کریں۔میں نے دیکھا ہے اسی نقص کی وجہ سے کہ لوگوں کو مسائل بتائے نہیں جاتے۔قادیان میں مردوں اور عورتوں کو بلا وجہ سوال کرنے کی عادت ہے اور بجائے کام کرنے کے وہ مانگ کر کھا لینا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں حالانکہ ہمیشہ کام کر کے کھانے کی عادت ڈالنی چاہئے اور یہی عادت ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ہاں جہاں کام نہ ملتا ہو وہاں کام مہیا کرنا پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا کام ہے لیکن جب کام مل جائے تو پھر اس کے کرنے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہئے۔پس کام مہیا کرنا ہمارا کام ہے۔گو پھر حکومت نہ ہونے کی وجہ سے ہم پوری طرح اس فرض کو سر انجام نہیں دے سکتے مگر پھر بھی ہمارا فرض ہے کہ جس حد تک ہم کام مہیا کر سکتے ہوں اُس حد تک جماعت کے دوستوں کے لئے کام مہیا کریں۔میں نے بتایا ہے کہ لجنہ اس سلسلہ میں کی