خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 45

خطبات محمود ۴۵ سال ۱۹۳۹ء نہیں لوں گا۔تیسرے سال انہوں نے پھر اُس کا حصہ دینا چاہا مگر اُس نے پھر انکار کر دیا۔پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے۔اُنہوں نے بھی ایک دفعہ اُسے بُلایا اور کہا یہ تمہارا حصہ ہے لے لو۔وہ کہنے لگا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ میں کبھی سوال نہیں کروں گا اور ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاؤں گا یہ مال میرے ہاتھ کی کمائی نہیں اس لئے میں اسے نہیں لے سکتا اور میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی موت کی تک اس اقرار کو نباہتا چلا جاؤں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بہت اصرار کیا مگر وہ انکار کرتا چلا گیا۔آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا اے مسلما نو ! میں خدا کے حضور بری الذمہ ہوں۔میں اس کا حصہ اسے دیتا ہوں مگر یہ خود نہیں لیتا۔اسی صحابی کے متعلق یہ ذکر آتا ہے کہ ایک جنگ میں یہ گھوڑے پر سوار تھے کہ اچانک اُن کا کی کوڑا اس کے ہاتھ سے گر گیا۔ایک اور شخص جو پیادہ تھا اُس نے جلدی سے کوڑا اٹھا کر انہیں دینا چاہا تو انہوں نے کہا اے شخص! میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تو اس کوڑے کو ہاتھ نہ لگا ئیو کی کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اقرار کیا ہوا ہے کہ میں کسی سے سوال نہیں کروں گا اور خود اپنا کام کروں گا۔چنانچہ عین جنگ کی حالت میں وہ اپنے گھوڑے سے اترے اور کوڑے کو اُٹھا کر پھر اس پر سوار ہو گئے۔۱۲ تو لوگوں کو بتانا چاہئے کہ مانگ کر کھانا ایک بہت بڑا عیب ہے تا کہ اس نقص کی اصلاح ہو۔بعض نادان اس موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم غرباء کی مدد سے گریز کرتے ہیں حالانکہ یہاں گریز کا کوئی سوال ہی نہیں۔ہمارے پاس حکومت تو ہے نہیں کہ جبراً لوگوں پر ٹیکس عائد کر کے اپنے خزانے بھر لیں اور پھر انہیں لوگوں میں تقسیم کر دیں۔یہی وجہ ہے کہ جو ذمہ داریاں خلفائے اوّل پر عائد تھیں وہ ہم پر نہیں۔اُن کے پاس اموال قانونی طور پر آتے تھے مگر ہمارے پاس اس رنگ میں اموال نہیں آتے بلکہ ایسے اموال حکومتِ ہند کے خزانہ میں جاتے ہیں۔پس ہم مجبور ہیں کہ مال کی تقسیم میں احتیاط سے کام لیں لیکن اگر بالفرض اس رنگ میں اموال آتے بھی ہوں تو سوال یہ ہے کہ کیا میں نے وہ مال کھا لینا ہے؟ اس مال نے تو بہر حال سلسلہ پر خرچ کی ہونا ہے تو مجھے اس بات کا کیا شوق ہے کہ میں زید کو دوں اور بکر کو نہ دوں یا مجھے اس سے کیا ہے