خطبات محمود (جلد 20) — Page 41
خطبات محمود ۴۱ سال ۱۹۳۹ء غافل رہتے ہیں یا اگر توجہ بھی کرتے ہیں تو زیادہ توجہ نہیں کرتے حالانکہ انہی لڑکیوں نے آئندہ نسلوں کی ماں بننا ہوتا ہے اور چونکہ یہ کل کو مائیں بنے والی ہوتی ہیں اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔اگر مائیں درست ہوں گی تو لڑ کے آپ ہی درست ہو جائیں گے اور اگر ماؤں کی اصلاح نہ ہوگی تو لڑکوں کی بھی اصلاح نہیں ہوگی۔اسی کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مدرسہ بنات کی تعلیم کے متعلق خاص طور پر زور دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ اس کے نصاب کو بدل دینا چاہئے اور لڑکیوں کو ایسی تعلیم دینی چاہئے جس کے نتیجہ میں ان میں قومی روح پیدا ہو اور اسلام کی محبت ان کے قلوب میں موجزن ہو۔شروع شروع میں تو کچھ لوگوں نے میری مخالفت کی یا ان کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ اُنہوں نے اسے پسند نہ کیا اور کئی سال تک مجلس شوری کے پروگرام سے یہ معاملہ پیچھے ہٹتا چلا گیا مگر آخر جب میں نے زیادہ زور دیا تو اس وقت جماعت میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مدرسہ بنات میں اصلاح ہونی چاہئے۔چنانچہ وہ اصلاح کی گئی اور اس کا نہایت ہی خوشگوار نتیجہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب نظر آنے لگ گیا ہے اور لڑکیوں میں دینی تعلیم بہت حد تک ترقی کر گئی ہے بلکہ بعض دفعہ لڑکیوں کے مضامین دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے کیونکہ وہ بہت سے لڑکوں کے مضامین سے بھی اچھے ہوتے ہیں۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا اور کارکنان نے میری اس سکیم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف اپنی زیادہ سے زیادہ توجہ مبذول رکھی تو کی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے نہایت ہی خوشکن نتائج پیدا ہوں گے لیکن ابھی تک یہ تعلیم قادیان کی تک ہی محدود ہے اور بیر ونجات کی احمدی لڑکیاں اس سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ قادیان میں لڑکیوں کے لئے جلد سے جلد ایک بورڈنگ ہاؤس قائم کیا جائے جس میں بیرونجات کی لڑکیاں آکر ٹھہر سکیں اور وہ مدرسہ بنات سے دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔دوسرے یہ بھی ضروری ہے کہ اس مدرسہ کی بیرونجات میں شاخیں کھولی جائیں تا کہ اُن میں بھی انہی اصول پر تعلیم کا سلسلہ جاری ہو جن اصول پر قادیان میں جاری ہے تاکہ وہ اچھی مائیں بہنیں اور اچھی نسلیں پیدا کر کے ان کی احمدیت کے نقطۂ نگاہ سے پرورش کر سکیں۔اسی طرح لڑکوں کی تربیت کے لئے میں نے مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل۔