خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 42

خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۹ء یہ جماعت اچھا کام کر رہی ہے گو اتنا اچھا نہیں جتنا قومی وسعت کے لحاظ سے ضروری ہے بلکہ اس کا سینکڑواں حصہ بھی نہیں۔ابھی سینکڑوں ایسی جماعتیں ہیں جہاں مجالس خدام الاحمدیہ قائم نہیں اور سینکڑوں کام ہیں جوا بھی اُنہوں نے کرنے ہیں ، ابھی تک صرف بیسیوں جماعتیں بنی ہیں اور وہ بھی پوری طرح کام نہیں کر رہیں اور جو کر رہی ہیں وہ اپنے کام کی اہمیت کو نہیں سمجھیں۔درحقیقت اس وقت تک صرف دس پندرہ جماعتیں ہی ہیں جو اچھا کام کر رہی ہیں لیکن بہر حال اس کام کی بنیاد پڑگئی ہے اور جب کسی کام کی بنیاد پڑ جائے تو ضرورت پر اسے زیادہ وسیع بھی کیا جاسکتا ہے۔میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی اور اب پھر جماعتوں کے پریذیڈنٹوں ، سیکرٹریوں اور دوسرے تمام افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خدام الاحمدیہ کے ساتھ تعاون کریں اور نو جوانوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہوں۔اسی طرح ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس میں داخل کریں تا اُن کی اچھی تربیت ہو۔جب تک ماں باپ اور جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اس طرف توجہ نہیں کریں گے ، جب تک وہ خدام الاحمدیہ کو کوئی اور چیز سمجھیں گے اور اپنے آپ کو کوئی اور چیز سمجھیں گے اس وقت تک پوری کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس ضروری ہے کہ ماں باپ بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور جماعتیں بھی اپنے فرض کو سمجھیں اور کی جو لوگ اس میں داخل نہیں انہیں مجبور کریں کہ وہ اس میں داخل ہوں اور جو داخل ہو چکے ہیں ان کی نگرانی کریں کہ آیا وہ پروگرام کے مطابق عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟ عورتوں کی تربیت کے لحاظ سے میں نے اس کی دوسری شاخ لجنہ اماء اللہ کے نام سے قائم کی ہوئی ہے۔یہ لجنہ صرف دو جگہ اچھا کام کر رہی ہے ایک قادیان میں دوسرے سیالکوٹ میں۔قادیان میں لجنہ کا زیادہ تر کام جلسے کرانا سلسلہ کے کاموں سے عورتوں کو واقف رکھنا، صنعت و حرفت کی طرف غریب عورتوں کو متوجہ کرنا اور انہیں کام پر لگانا ہے۔یہ کام کو آہستہ آہستہ ہو رہا ہے لیکن اگر استقلال اور ہمت سے اس کام کو جاری رکھا گیا تو میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ بیواؤں اور یتامیٰ کا مسئلہ حل کرنے میں کسی دن کامیاب ہو جائیں گی۔لجنہ کے اس کام میں تاجروں کی امداد کی بھی ضرورت ہے۔انہیں چاہئے کہ لجنہ جو چیزیں بنوائے وہ انہیں بیچ دیا کریں۔