خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 385

خطبات محمود ۳۸۵ سال ۱۹۳۹ء اور ہمارا فرض ہو گا کہ ہم ان کا مقابلہ کریں مگر وہ زمانہ ابھی دُور ہے۔موجودہ زمانہ کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں اُن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں انگریزوں کے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا اور ان کے قوانین احمدیت کی ترقی کے لئے مدہوں گے اور جہاں جہاں ان کی حکومت ہوگی وہاں کی احمدیت کی تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے راستہ کھل جائے گا اور اس کا عملی ثبوت اس بات سے مل سکتا ہے کہ ہندوستان سے باہر جن ممالک میں انگریزوں کی حکومت نہیں وہاں ہم نے کی جب تبلیغ کی تو ہمارے راستہ میں روکیں حائل کرنے کی کوشش کی گئی۔بیشک بعض اور ممالک بھی ہیں جہاں ہمیں تبلیغ میں آسانی ہے مگر وہ بہت کم ہیں۔اکثر ایسے ہیں جہاں تبلیغ میں روکیں ڈالی جاتی ہیں ایسی صورت میں انگریزوں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جہاں ہماری تبلیغ کے راستے کھلے ہیں وہاں بھی احمدیت کی ترقی رُک جائے۔اب ایک طرف ہماری غیرتیں ہوں اور دوسری طرف یہ نتیجه تو کونسا احمدی یہ برداشت کرے گا کہ تبلیغ تو بیشک بند کر دی جائے مگر اس کی غیرت کو کوئی صدمہ نہ پہنچے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تبلیغ اگر بند ہوتی ہے تو ہو جائے ، میری غیرت کا تقاضا پورا ہونا چاہئے۔تو مجھے تو اس کے متعلق یہی طبہ پڑ جائے گا کہ وہ احمدی نہیں ہے بلکہ احمدیت کا دشمن ہے۔بہر حال ہم اس وقت خون کا گھونٹ پئیں گے۔اپنے نفسوں پر جبر کریں گے اور جس امر میں خدا کی بڑائی ہے اسے قبول کر لیں گے اور کہیں گے جہاں ہم نے اسلام اور احمدیت کے لئے اور قربانیاں کیں وہاں ہم نے اپنے جذبات غیرت کو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے قربان کر دیا۔یہ قربانی معمولی قربانی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی اہمیت رکھنے والی ہے۔کیونکہ جذبات غیرت کو قربان کرنا معمولی بات نہیں ہوتی۔پس میں جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو سمجھے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو سمجھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق عمل کو سمجھے جب تک لوکل حکام کا سوال تھا اس وقت تک معاملہ بالکل اور حیثیت رکھتا تھا مگر اب معاملہ بالکل اور حیثیت رکھتا ہے۔جب تک لوکل حکام کے ساتھ ہمارا جھگڑا تھا اُس وقت تک ہمارے جھگڑے کی ایسی ہی نوعیت تھی جیسے زید یا بکر کے ساتھ جھگڑا ہو جائے۔چنانچہ دیکھ لومیں خود بھی اس وقت کئی رنگ میں ان کا مقابلہ کرتا رہا کیونکہ۔