خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 374

خطبات محمود ۳۷۴ سال ۱۹۳۹ء نمائندوں نے بھی جماعت سے جس قسم کا سلوک کیا وہ نہایت ہی ظالمانہ اور غیر منصفانہ تھا۔بلکہ یہ حقیقت ہے کہ اپنی طرف سے انہوں نے جماعت کو کچلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔کی اُنہوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا، اس کے مال پر حملہ کیا، اس کی جائیدادوں پر حملہ کیا ، اس کے نظام پر حملہ کیا ، اسی طرح انہوں نے ہمارے نظام کو توڑنے کے لئے مختلف قسم کی سازشیں کیں۔کہیں ہمارے اندر اُنہوں نے بغاوت پھیلانے کی کوشش کی ، کہیں ہمارے مقدس مقامات چھیننے کے لئے دشمن نے زور لگایا اور بعض حکام بھی اُن کے ساتھ شامل ہو گئے۔کہیں ہمارے امن کو برباد کرنے کے لئے تدبیریں کی گئیں اور اس میں بعض مقامی حکام کا بھی دخل تھا۔پھر قادیان جو ہمارا مقدس مقام ہے اس میں اس قسم کے ظلم روا ر کھے گئے کہ بار بار یہاں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کیا گیا ، بچوں کی مجلسوں تک میں مجسٹریٹوں نے دخل دینے کی کوشش کی بلکہ جمعہ کے خطبے روکنے کی بھی کوشش کی گئی اور حقیقت یہ ہے کہ یہ مظالم اس تو اتر اور تسلسل کے ساتھ ہم پر ہوتے رہے ہیں کہ اس وقت بھی کہ مجھے بعض اُن لوگوں کے خیالات کی تردید کرنے کے لئے جو موجودہ جنگ میں حکومت برطانیہ کے ساتھ تعاون کرنے میں بشاشت محسوس نہیں کرتے ضمناً ان واقعات کی طرف اشارہ کرنا پڑا ہے۔میرا خون کھولنے لگا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر مخلص احمدی اس وقت تک اپنی جنگ مقامی حکومت کے ساتھ ختم نہ کرے گا جب تک ان حکام کو جو اِن شرارتوں کے بانی تھے سزا نہ ملے گی اور ان شرارتوں کا سد باب کر کے قادیان کو ہمارے مذہبی مرکز کی حیثیت میں حکومت تسلیم نہ کرے گی۔آخر کونسا نظمند پنجاب کے ذمہ دار حکام کو دیانتدار سمجھ سکتا ہے اور اگر وہ پولینڈ کی مدد کے لئے تو پنجابیوں میں جوش پیدا کرنے کے لئے دھواں دھار تقریر کریں اور کمزوروں اور بے کسوں کی امداد کے نعرے لگائیں لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے برطانوی رعایا کے بہترین وفادار طبقہ پر ظلم ڈھایا جائے اور وہ خاموشی رہیں اور جب ان ظلموں کو ثابت کر دیا جائے تو وہ اپنے ماتحتوں کے افعال کے لئے ہزاروں کی غلط تاویلات تلاش کرنے میں لگ جائیں۔یہ دونوں باتیں ایک وقت میں جمع نہیں ہوسکتیں اور می میں ایک منٹ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا کہ ایسے حکام بادشاہ معظم کے خیر خواہ ہیں۔میرے نزدیک وہ بادشاہ معظم کے خیر خواہ نہیں بلکہ جاہ طلب حکام ہیں جن کی وفاداری کی کوششیں