خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 354

خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۹ء ان حالات میں یہ امر بعید نہیں کہ معصوم ہندوستان پر بھی گولہ باری کی جائے اور اس کے نہتے افراد کو اس لئے تباہ کر دیا جائے کہ وہ انگریزوں کی حکومت میں کیوں ہیں۔بمباری سے تباہی کا خطرہ انگلستان ، فرانس اور ان کے مقابلہ میں جرمنی اور اگر اٹلی اور روس لڑائی میں شامل ہو جائیں تو ان کو بھی ہے۔پولینڈ ، ترکی اور مصر کو بھی ہے۔اگر ان کے افراد یہ لذت بھی محسوس کرتے ہیں کہ اگر دشمن ہم کو ماریں گے تو ہم بھی ان کو ماریں گے لیکن ہندوستانی کیا کہہ سکتے ہیں؟ ان کی اپنی کوئی فوج ہے نہ سامان ان کے پاس ہے۔سوائے اس کے کہ جو انگریز ان کے لئے مہیا کر دیں اور پھر وہ سامان بھی انگریز افسروں کے قبضہ میں ہوگا۔ہندوستانیوں کا نہ جنگ کرنے میں کوئی دخل ہے نہ صلح کرنے میں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فتح کی صورت میں ہندوستان کو کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر خدانخواستہ انگریزوں کو شکست ہو جائے تو نقصان میں ہندوستان کو ضرور حصہ دار بننا پڑے گا۔گویا گو ہندوستانی فتح کے حصہ سے محروم ہیں مگر تکلیف میں شامل ہیں۔لڑائی یا صلح نہ ان کے ہاتھ میں ہے اور نہ اس میں ان کا کوئی دخل ہے۔پھر فتح کے انعامات میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں لیکن شکست کے نقصان میں ضرور ہے۔پچھلی جنگ میں کم سے کم چار پانچ لاکھ مسلمان شریک ہوئے ہوں گے ان میں سے پچاس ساٹھ ہزار مارے گئے ہوں گے اور قریب لا کھ ڈیڑھ لاکھ زخمی ہوئے ہوں گے لیکن بعد میں کیا ہوا اور مسلمانوں کو کیا صلہ ملا۔یہ کہ ترکی کے حصے بخرے کر دیئے گئے اور جن مسلمانوں نے اپنے خون بہائے تھے وہ دیکھتے کے دیکھتے اور روتے کے روتے رہ گئے۔اسی طرح عرب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔تو فتوحات کی صورت میں تو ہندوستانیوں کو کوئی فائدہ نہیں لیکن شکست کی صورت میں نقصان ضرور ہے۔ان کے اپنے بچاؤ کی کوئی صورت ان کے اختیار میں نہیں بلکہ انگریزی حکومت کے اختیار میں ہے۔نہ صلح ان کے اختیار میں ہے اور نہ لڑائی مگر چونکہ انگریزوں کا بہت بڑا اقتدار ہندوستان کی وجہ سے ہی ہے اس لئے یہ بات واضح کی ہے کہ جہاں تک ان کا زور چلے گا انگریز ہندوستان کو تباہ ہونے یا دشمن کے قبضہ میں جانے سے بچائیں گے۔میرا مطلب یہ ہے کہ کسی بات میں ہندوستان کی رائے کو دخل نہیں۔وہ محض ایک کی ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ایک تیر ہے جسے جدھر چاہے چلا دیا جائے۔وہ دماغ نہیں کہ خود