خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 344

خطبات محمود ۳۴۴ سال ۱۹۳۹ء۔تم کہہ سکتے ہو کہ تم واقع میں اس قسم کی قربانیاں کر رہے ہو؟ کیا تم میں وہ رجل رشید نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان احسان کے شکر کے طور پر کہ اس نے تمہیں اپنے مسیح کو ماننے کی توفیق بخشی اپنا مال اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کر دیں۔کیا تمہارے دل میں یہ درد پیدا نہیں ہوتا کہ کاش تمہیں بھی ایسی ہی قر بانیوں کا موقع ملے تا آنے والی نسلیں تمہارے نمونہ کو دیکھ کر تم پر درود بھیجیں اور آسمان پر فرشتے تمہاری قربانی اور ایثار کی تعریف کریں۔نہایت چھوٹی چھوٹی قر بانیاں ہیں جو تمہارے سامنے پیش ہوتی ہیں مگر تھوڑے ہی عرصے کے بعد تم ان کو کی بالکل بھول جاتے ہو اور تمہاری حالت اس افیونی کی طرح ہو جاتی ہے جسے بار بار جگانا پڑتا ہے اور وہ بار بارسو جاتا ہے۔مثلاً میں نے تحریک جدید شروع کی۔میں سمجھتا ہوں اپنے دل میں اسلام کا در در رکھنے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا تھا جس کے سامنے یہ تحریک پیش کی جاتی کہ اس چندہ کے ذریعہ ایک ایسا مستقل فنڈ قائم کر دیا جائے گا جو دائمی طور پر اسلام کی تبلیغ کے کام آئے گا اور وہ یہ تحریک سُننے کے باوجود اس میں حصہ نہ لیتا بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر ایک مرتے ہوئے با ایمان انسان کے کانوں میں بھی یہ تحریک پہنچ جاتی تو اس کی رگوں میں خون دوڑنے لگتا اور وہ سمجھتا کہ میرے خدا نے میرے مرنے سے پہلے ایک ایسی تحریک کا آغاز کرا کے اور مجھے اس میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرما کر میرے لئے اپنی جنت کو واجب کر دیا مگر تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس کی اہمیت کو سمجھا تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے استقلال کے ساتھ اس میں حصہ لیا ؟ لاکھوں کی جماعت میں سے پانچ ہزار کی تعداد بھی تو ابھی پوری ہونے میں نہیں آئی۔چنانچہ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ”الفضل“ میں اُن لوگوں کی جو فہرست شائع ہو رہی ہے جنہوں نے شرائط کے مطابق تحریک جدید کے پانچوں سالوں کا چندہ اگست تک ادا کر دیا ہے ان کی تعداد بھی تین چار سو سے زائد نہیں ہوئی اور ابھی تو اس تحریک کا پانچواں سال ہے۔نہ معلوم شامل ہونے والوں میں سے آخری سال تک کون گرتا اور کون رہتا ہے۔اس زمانہ کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں اور وہ انعام بھی حاصل کر لیں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے حاصل کئے حالانکہ یہ بالکل ناممکن ہے۔وہ انعامات تو الگ رہے ایمان بھی اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک اُن تمام قر بانیوں میں حصہ نہ لیا جائے جو پہلے انبیاء کی