خطبات محمود (جلد 20) — Page 343
خطبات محمود ۳۴۳ سال ۱۹۳۹ء کوئی ایسا طریق نظر نہیں آتا جس سے یہ ذلت کا داغ ہم اپنی پیشانی سے دور کر سکیں اور ہم آپ سے یہی مشورہ لینے کے لئے آئے ہیں کہ کیا کوئی ایسا طریق نہیں جس سے یہ ذلت ہمارے ماتھے سے دور ہو سکے۔عجیب بات یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خاندان سے تعلق رکھتے ہی تھے جس کے ذمہ عرب کے نسبوں کو یاد رکھنا ہوتا تھا اور وہ بتایا کرتے تھے کہ فلاں خاندان میں فلاں بڑا آدمی ہوا ہے اور فلاں خاندان میں فلاں بڑا آدمی ہوا ہے۔پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ واقف ان کی خاندانی عزت کا اور کون ہوسکتا تھا۔وہ جانتے تھے کہ ان کے باپ دادا کو کیسی عظمت حاصل تھی ، وہ جانتے تھے کہ انہیں کتنی بڑی حکومت حاصل تھی اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اب ان کی کیا حالت ہے۔یہ تمام حالات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایک کر کے آنے لگے اور ان واقعات کا تصور کر کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا ! تم اس ذلت کا علاج پوچھتے ہو۔یہ کہہ کر آپ پر رقت طاری ہو گئی اور مزید کوئی اور بات کرنا آپ کے لئے مشکل ہو گیا۔آپ نے غلبہ رقت میں اپنا ہاتھ اُٹھایا اور شمال کی طرف جہاں شام میں ان دنوں لڑائی ہو رہی تھی اشارہ کیا اور کہا اس کا علاج ہے اُدھر ہے۔گویا انہیں بتایا کہ اس ذلت کو دور کرنے کا علاج صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جہاد میں شامل ہو کر جانیں دے دو۔اس کے سوا اور کوئی علاج نہیں۔وہ لوگ بھی اخلاص سے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ان کے دلوں میں بھی ایمان تھا اور ان کے قلوب بھی اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار تھے۔اُنہوں نے جب یہ سنا تو اسی وقت وہ اپنے اونٹوں پر سوار ہو کر شام کی طرف چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ پھر ان میں سے کوئی شخص زندہ واپس نہیں آیا۔اے سب اسلام کی خاطر جہاد میں شامل ہو کر شہید ہو گئے۔یہ ان دشمنوں کے لڑکے تھے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت شروع دن سے کی مگر پھر بھی ان کے اخلاص اور ان کی قربانی کا یہ حال تھا تو کہ وہ ایک اشارہ پاتے ہی شام کی طرف روانہ ہو گئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ واپس نہیں کی آیا۔اس کے مقابلہ میں میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں کہ تمہارے اخلاص اور تمہاری قربانی اور تمہاری محبت اور تمہاری فدائیت کا بھی ثبوت یہی ہوسکتا تھا کہ تم ثابت کرتے کہ تم نے احمدیت کے لئے اسی قسم کی قربانیوں کا نمونہ دکھا دیا ہے جس قسم کی قربانیاں صحابہ نے کیں مگر کیا تو