خطبات محمود (جلد 20) — Page 338
خطبات محمود ۳۳۸ سال ۱۹۳۹ء سمجھا جاتا۔ہم جو مسلمان ہیں اپنی تاریخوں میں چونکہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا نام پڑھتے اور انہی کا نام ہر وقت سنتے رہتے ہیں اس لئے عام طور پر مسلمانوں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہی مکہ کے بڑے لوگ تھے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مکہ کے بڑے آدمی نہیں تھے مگر آہستہ آہستہ جب قوموں میں مذہب پھیل جائے تو وہ اپنے آدمیوں کے متعلق ہی یہ خیال کرنے لگ جاتی ہیں کہ وہ سب سے بڑے تھے۔یہی حال مسلمانوں کا ہے وہ اپنی شوکت اور عظمت کی وجہ سے اس بات کو بھول چکے ہیں کہ اُس وقت کے مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتے تھے۔مثلاً آج یہ سمجھنا مشکل ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے مکہ کے ایک بیکس نو جوان تھے بلکہ آج ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدائشی طور پر ہی بادشاہ تھے۔اسی طرح آج حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قربانیوں کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں ان کی جو عزت ہے اس کی وجہ سے وہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شاید مکہ کے سب سے بڑے رئیس تھے۔یہی حال حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے متعلق مسلمانوں کے خیالات کا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گو یہ لوگ مکہ کے بڑے خاندانوں میں سے تھے مگر سردارانِ قوم میں سے نہیں تھے بلکہ سردارانِ قوم کے قریب درجہ بھی نہیں رکھتے تھے۔آج ہم جب پڑھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر فلاں خاندان میں سے تھے جسے عرب میں بڑی عزت حاصل تھی تو خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ عزت حضرت ابو بکر کو حاصل تھی۔اسی طرح جب پڑھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے خاندان کو مکہ میں یہ عظمت حاصل تھی تو خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ عظمت حضرت عمرؓ کو ہی حاصل تھی حالانکہ اس کے صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے رشتہ داروں میں سے کسی رشتہ دار کو یہ عزت اور عظمت حاصل تھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس وقت حضرت ابو بکر کو بھی یہ عظمت حاصل تھی یا حضرت عمرؓ کو بھی یہ عظمت حاصل تھی۔مکہ کے اصل سردار بالکل اور کی تھے ان سرداروں میں سے ابوسفیان تھا، ابو جہل تھا جس کا اصل نام ابوالحکم تھا۔اسی طرح عتبہ تھا، شیبہ تھا ، ولید تھا۔اسی طرح بعض اور لوگ تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو مکہ کے سردار تھے اور ان میں سے کوئی شخص مسلمان نہیں تھا۔مکہ والے جب بھی کوئی بات کرتے ہمیشہ ان سے پوچھ کر کیا کرتے