خطبات محمود (جلد 20) — Page 339
خطبات محمود ۳۳۹ سال ۱۹۳۹ء اور ان کو عظمت بھی اس قسم کی حاصل تھی کہ لوگ ان کے سامنے بات کرنے سے ڈرتے اور ان کے مکہ والوں پر بہت بڑے احسان تھے۔چنانچہ ان لوگوں کو جس قسم کی عظمت حاصل تھی اس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مکہ والوں نے جس شخص کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کی گفتکو کرنے کے لئے بھیجا اس نے باتیں کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا دیا اور جس طرح دوسرے کو سمجھاتے ہوئے بعض دفعہ کہا جاتا ہے کہ اپنے باپ کی عزت کا خیال کرو اسی طرح اس نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھانا شروع کر دیا کہ میری عزت کا پاس کرو اور جس طرح ہماری پنجابی زبان میں مثل ہے کہ ون ون دی لکڑی۔اسی طرح اس نے انصار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ متفرق لوگ ہیں ان پر تم اعتبار نہ کرو۔یہ تو تم پر مصیبت کا کوئی وقت آیا تو فوراً چھوڑ کر چلے جائیں گے اور تمہارے کام آخر تمہارا خاندان ہی آئے گا۔اس لئے تم ان کی بات کے پیچھے نہ جاؤ اور جس طرح ہم کہتے ہیں کہ اس دفعہ بغیر عمرہ کئے واپس چلے جاؤ اس کو مان لو۔یہ مضمون کی بیان کرتے ہوئے جب وہ یہاں پہنچا کہ اپنی قوم ہی اچھی ہوتی ہے اور مصیبت کے وقت وہی کام آیا کرتی ہے، یہ لوگ تو تجھے مشکل کے وقت بالکل چھوڑ دیں گے تو اس نے اپنی بات پر زیادہ زور دینے اور اُسے منوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگا دیا۔اس پر ایک صحابی نے اپنی تلوار کا کندہ اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا ہٹالے اپنا نا پاک ہاتھ۔تیری کیا حیثیت ہے کہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگائے۔اُس نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا صحابہ چونکہ خود پہنے ہوئے تھے اور صرف آنکھیں اور ان کے حلقے ہی نظر آرہے تھے اس لئے وہ کچھ دیر غور سے اس صحابی کی طرف دیکھتا رہا اور آخر اس نے پہچان لیا اور کہا کیا تم فلاں ہو؟ اس نے کہا ہاں۔وہ کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے فلاں موقع پر کی تمہارے باپ کو اس مصیبت سے بچایا اور فلاں موقع پر تمہارے فلاں رشتہ دار کو اس مشکل سے نجات دی۔کیا تم میرے سامنے بولتے ہو؟ وہ صحابی بالکل خاموش ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔اس پر پھر اس نے بات شروع کی اور جوش میں آکر اس نے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈاڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔صحابہ کہتے ہیں ہم میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس پر اس کا