خطبات محمود (جلد 20) — Page 330
خطبات محمود ۳۳۰ سال ۱۹۳۹ء سے اچھے تعلقات رکھیں تا وہ خود بخود ان سے سودا خرید نا ضروری سمجھیں۔ہند و مسلمانوں کے ہاتھ کا نہیں کھاتے مگر اس کی وجہ سے کوئی ان پر اعتراض نہیں کرتا لیکن ہمارے فیصلہ پر اعتراضات ہوتے ہیں کیونکہ ہمارا فیصلہ جماعتی رنگ رکھتا ہے۔اگر یہی کام افراد اپنے طور پر کریں تو ان پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔بہر حال اب میں عنقریب اس پابندی کو دور کرنے والا ہوں اور اس وجہ سے بھی تاجروں کی ایک کمیٹی کا قیام ضروری ہے اور اگر وہ ان ہدایات پر عمل کی کریں جو میں نے بیان کی ہیں تو کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔دیانتداری سے ان کا کا روبار ترقی کرے گا۔ان کی عقلیں تیز ہوں گی اور پھر خدا تعالیٰ کی نصرت ان کے ساتھ ہو گی کی کیونکہ جو شخص دیانتدار ہو اللہ تعالیٰ اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔(الفضل ۱۵ اگست ۱۹۳۹ء) 66 النحل : ١٢٩ ان الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا انْزَلَ اللهُ مِنَ الكِتَبِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلاً أوليك ما يأكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلا يُعَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيمَة و لايُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذاب اليم (البقرة : ۷۵) المومنون : ۵۲ الصحيح البخارى كتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة