خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 329

خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۹ء کہ جود کا ندار اس کا ممبر نہ ہو اس سے سودا نہ لیا جائے مگر یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم دیکھیں کہ وہ دکانداروں کی ایمانی اور اخلاقی حفاظت کرتے ہیں اور خواہ مخواہ ظلم نہیں کرتے۔اس صورت میں وہ کمیٹی ہمارا ہاتھ ہو گی اور اسے ہم اختیارات دے سکیں گے اور جن دکانداروں پر وہ مُجرم ثابت کریں گے ان سے قطع تعلق کریں گے۔یورپ بالخصوص انگلستان میں ایسی کمیٹیوں کے بہت فوائد ہیں۔میڈیکل رجسٹریشن کرنے والی کمیٹی کوئی سرکاری ادارہ نہیں مگر جب وہ دیکھے کہ کوئی ڈاکٹر بد دیانتی کرتا ہے تو وہ اس کا نام اپنے رجسٹر سے کاٹ دیتی ہے اور گورنمنٹ بھی ایسے شخص کو پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ہم بھی اپنی کمیٹی کی جن کاموں میں اخلاق اور تجارتی ترقی کے لئے ضرورت ہو گی مدد سے دریغ نہیں کریں گے۔اس کمیٹی کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ یہ پابندی جو اس وقت ہے کہ ہندوؤں سے سودا نہ خریدا جائے میں اسے دُور کرنے والا ہوں۔جس وقت یہ لگائی گئی تھی چاہے، کسی وجہ سے لگائی تھی اس وقت خاص حالات تھے۔ہم اپنے ہمسایوں سے ہمیشہ اس قسم کا سلوک روا نہیں رکھ سکتے اس لئے میں اب اسے زیادہ دیر تک قائم رکھنا نہیں چاہتا اور میں جانتا ہوں کہ جس وقت اسے دور کیا گیا یکدم احمد یوں کی تجارت گرے گی اور اُس وقت بھی اپنے تاجروں کے حقوق کی حفاظت کے لئے اس کمیٹی کی ضرورت پیدا ہوگی۔جس وقت یہ پابندی لگائی گئی تھی یہاں غالباً صرف ایک احمدی یعنی سید احمد نور صاحب کی دکان تھی یا شاید کرم الہی صاحب کھارے والے کی بھی دکان کھل چکی تھی۔یہ بہر حال ایک یا دو دکانیں جو تھیں وہ بھی معمولی حیثیت کی تھیں مگر اب بیسیوں ہیں اور بعض ایسی کی تجارت کر رہے ہیں کہ ہندوؤں کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن جب یہ پابندی اُٹھائی گئی تو ضرور احمدیوں کی تجارت پر اس کا اثر پڑے گا کیونکہ تمام احمدی ایسے غیرت مند نہیں کہ اس وقت بھی احمدیوں سے سودا خرید نا ضروری سمجھیں۔بعض تو ایسے ہیں کہ انہیں خواہ ایک دمری کا فائدہ ہو اور میل چل کر جانا پڑے تو ہندو سے ہی خریدیں گے اور پھر محلہ میں شور مچاتے پھریں گے کہ دیکھو احمدی کتنے گراں فروش ہیں۔اس موقع پر احمدیوں کی چلتی ہوئی تجارتیں گریں گی اور ممکن ہے بعض کو سینکڑوں ہزاروں کا نقصان ہو مگر اس پابندی کا دیر تک جاری رکھنا مناسب نہیں اس لئے تاجروں کو بھی چاہئے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کا انتظام کریں۔اپنے گاہکوں اور محلہ والوں کی